حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 168

۸۵۰ صحابہ کا حال سنو کہ ایک نے تو جس کا نام یہودا اسکر یوطی تھا میں روپے لے کر حضرت مسیح کو گرفتار کرا دیا۔اور پطرس حواری جس کو بہشت کی کنجیاں دی گئی تھیں اس نے حضرت مسیح کے رو بروان پر لعنت بھیجی اور باقی جس قدر حواری تھے وہ مصیبت کا وقت دیکھ کر بھاگ گئے اور ایک نے بھی استقامت نہ دکھلائی اور ثابت قدم نہ رہے اور بزدلی ان پر غالب آ گئی اور ہمارے نبی ﷺ کے صحابہ نے تلواروں کے سایہ کے نیچے وہ استقامتیں دکھلائیں اور اس طرح مرنے پر راضی ہوئے جن کی سوانح پڑھنے سے رونا آتا ہے۔پس وہ کیا چیز تھی جس نے ایسی عاشقانہ روح ان میں پھونک دی۔اور وہ کون سا ہاتھ تھا جس نے ان میں اس قدر تبدیلی پیدا کر دی۔یا تو جاہلیت کے زمانہ میں وہ حالت ان کی تھی کہ وہ دنیا کے کیڑے تھے اور کوئی معصیت اور ظلم کی قسم نہیں تھی جو ان سے ظہور میں نہیں آئی تھی۔اور یا اس نبی کی پیروی کے بعد ایسے خدا کی طرف کھینچے گئے کہ گویا خدا ان کے اندر سکونت پذیر ہو گیا۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ وہی توجہ اس پاک نبی کی تھی جو ان لوگوں کو سفلی زندگی سے ایک پاک زندگی کی طرف کھینچ کر لے آئی اور جو لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے اس کا سبب تلوار نہیں تھی بلکہ وہ اس تیرہ سال کی آہ وزاری اور دعا اور تضرع کا اثر تھا جو مکہ میں آنحضرت عمیل کرتے رہے اور مکہ کی زمین بول اٹھی کہ میں اس مبارک قدم کے نیچے ہوں جس کے دل نے اس قدر توحید کا شور ڈالا جو آسمان اس کی آہ و زاری سے بھر گیا۔خدا بے نیاز ہے اس کو کسی ہدایت یا ضلالت کی پرواہ نہیں۔پس یہ نور ہدایت جو خارق عادت طور پر عرب کے جزیرہ میں ظہور میں آیا اور پھر دنیا میں پھیل گیا یہ آنحضرت عمﷺ کی دلی سوزش کی تاثیر تھی۔ہر ایک قوم توحید سے دور اور مجبور ہو گئی مگر اسلام میں چشمہ توحید جاری رہا۔یہ تمام برکتیں آنحضرت ﷺ کی دعاؤں کا نتیجہ تھا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنینَ ہے یعنی کیا تو اس غم میں اپنے تئیں ہلاک کر دیگا جو یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔پس پہلے نبیوں کی اُمت میں جو اس درجہ کی صلاح و تقویٰ پیدا نہ ہوئی اس کی یہی وجہ تھی کہ اس درجہ کی توجہ اور دلسوزی اُمت کیلئے ان نبیوں میں نہیں تھی۔افسوس کہ حال کے نادان مسلمانوں نے اپنے اس نبی مکرم کا کچھ قدر نہیں کیا اور ہر ایک بات میں ٹھوکر کھائی۔وہ ختم نبوت کے ایسے معنے کرتے ہیں جس سے آنحضرت ﷺ کی ہجو نکلتی ہے نہ تعریف۔گویا آنحضرت علی اللہ کے نفس پاک میں افاضہ اور تکمیل نفوس کیلئے کوئی قوت نہ تھی اور وہ صرف خشک شریعت کو سکھلانے آئے تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ اس اُمت کو یہ دعا ل الشعراء: الفاتحة: ٦، المؤمنون: ۵۱