حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 167
۸۴۹ یہ وحی الہی کہ خدا کی فیلنگ اور خدا کی مہر نے کتنا بڑا کام کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ خدا نے اس زمانہ میں محسوس کیا کہ یہ ایسا فاسد زمانہ آ گیا ہے جس میں ایک عظیم الشان مصلح کی ضرورت ہے اور خدا کی مہر نے یہ کام کیا کہ آنحضرت علی کی پیروی کرنے والا اس درجہ کو پہنچا کہ ایک پہلو سے وہ اُمتی ہے اور ایک پہلو سے نبی۔کیونکہ اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا۔یعنی آپ کو افاضہ کمال کیلئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبین ٹھہرا یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے۔اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔یہی معنے اس حدیث کے ہیں کہ عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَانَبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيل یعنی میری اُمت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہو نگے اور بنی اسرائیل میں اگر چہ بہت نبی آئے مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہبت تھیں۔حضرت موسیٰ کی پیروی کا اس میں ایک ذرہ کچھ دخل نہ تھا۔اسی وجہ سے میری طرح ان کا یہ نام نہ ہوا کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمتی بلکہ وہ انبیاء مستقل نبی کہلائے اور براہ راست ان کو منصب نبوت ملا اور ان کو چھوڑ کر جب اور بنی اسرائیل کا حال دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان لوگوں کو رشد اور صلاح اور تقویٰ سے بہت ہی کم حصہ ملا تھا اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کی اُمت اولیاء اللہ کے وجود سے عموماً محروم رہی تھی اور کوئی شاذ و نادران میں ہوا تو وہ حکم معدوم کا رکھتا ہے بلکہ اکثر ان میں سرکش، فاسق ، فاجر ، دنیا پرست ہوتے رہے ہیں اور اسی وجہ سے ان کی نسبت حضرت موسیٰ یا حضرت عیسی کی قوت تاثیر کا توریت اور انجیل میں اشارہ تک نہیں ہے۔توریت میں جابجا حضرت موسیٰ کے صحابہ کا نام ایک سرکش اور سخت دل اور مرتکب معاصی اور مفسد قوم لکھا ہے جن کی نافرمانیوں کی نسبت قرآن شریف میں بھی یہ بیان ہے کہ ایک لڑائی کے موقع کے وقت میں انہوں نے حضرت موسیٰ کو یہ جواب دیا تھا کہ فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ إِنَّا هُهُنَا قَعِدُونَ ہے یعنی تو اور تیرا رب دونوں جا کر دشمنوں سے لڑائی کرو ہم تو اسی جگہ بیٹھیں گے۔یہ حال تھا ان کی فرمانبرداری کا۔مگر آنحضرت ﷺ کے صحابہ کے دلوں میں وہ جوش عشق الہی پیدا ہوا اور توجہ قدسی آنحضرت علیہ کی وہ تاثیر ان کے دلوں میں ظاہر ہوئی کہ انہوں نے خدا کی راہ میں بھیٹروں اور بکریوں کی طرح سر کٹائے۔کیا کوئی پہلی امت میں ہمیں دکھا سکتا ہے یا نشان دے سکتا ہے کہ انہوں نے بھی صدق اور صفا دکھلایا۔یہ تو حضرت موسیٰ کے صحابہ کا حال تھا۔اب حضرت مسیح کے المآئدة: ۲۵