حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 166
۸۴۸ نشان ہو۔پھر آخری خلیفہ یعنی مسیح موعود کو نبی کے نام سے پکارا جائے تا خلافت کے امر میں دونوں سلسلوں کی مشابہت ثابت ہو جائے اور ہم کئی دفعہ بیان کر چکے ہیں کہ مسیح موعود کی نبوت ظلمی طور پر ہے کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کا بروز کامل ہونے کی وجہ سے نفس نبی سے مستفیض ہو کر نبی کہلانے کا مستحق ہو گیا ہے جیسا کہ ایک وحی میں خدا تعالیٰ نے مجھ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ یا اَحْمَدُ جُعِلْتَ مُرْسَلًا۔اے احمد تو مرسل بنایا گیا۔یعنی جیسے کہ تو بروزی رنگ میں احمد کے نام کا مستحق ہوا۔حالانکہ تیرا نام غلام احمد تھا سواسی طرح بروز کے رنگ میں نبی کے نام کا مستحق ہے کیونکہ احمد نبی ہے۔نبوت اس سے منفک نہیں ہوسکتی۔(تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۶،۴۵) وان قال قائل كيف يكون نبى من هذه الامة وقد ختم الله على النبوة۔فالجواب انّه عزّ و جلّ ما سمى هذا الرجل نبيًّا الا لاثبات كمال نبوّة سيدنا خير البريّة۔فان ثبوت كمال النبى لا يتحقق الا بثبوت كمال الامة و من دون ذالک ادعاء محض لا دليل عليه عند اهل الفطنة۔ولا معنى لختم النبوّة على فرد من غير ان تختتم كـمـالات الـنبـوة على ذالك الفرد۔ومن الكمالات العظمي كمال النبي في الافاضة وهو لا يثبت من غير نموذج يوجد فى الامة۔ثم مع ذالك ذكرت غير مرّةٍ ان الله ما اراد من نبوّتى الاكثرة المكالمة والمخاطبة و هو مسلّم عند اكابر اهل السنة۔فالنزاع ليس الا نزاعًا لفظيًّا فلا تستعجلوا يا اهل العقل والفطنة و لعنة الله على من ادعى خلاف ذالک مثقال ذرّةٍ و معها لعنة الناس والملئكة ( الاستفتاء ضمیمہ حقیقۃ الوحی- روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۳۷ حاشیه ) لے اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ اس اُمت میں سے کوئی نبی کیسے ہو سکتا ہے جبکہ اللہ نے نبوت پر مہر لگا دی ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ اللہ عز وجل نے اس شخص کا نام نبی صرف اور صرف اس لئے رکھا تا کہ وہ ہمارے سید ومولیٰ خیر الوریٰ علیہ کی نبوت کے کمال کو ثابت کرے کیونکہ آنحضرت عمﷺ کی نبوت کا کمال امت کے کمال کے ثبوت کے بغیر متحقق نہیں ہوتا۔اس کے بغیر یہ محض دعویٰ ہے جس پر اہل عقل کے نزدیک کوئی دلیل نہیں۔کسی فرد پر نبوت کے ختم ہونے کے اس کے سوا کوئی معنی نہیں کہ اس فرد پر نبوت کے کمالات اپنی انتہا کو پہنچیں اور نبی کا فیض رسانی کا کمال نبوت سے عظیم کمالات میں سے ہے اور یہ کمال امت میں موجود نمونے کے بغیر ثابت نہیں ہوسکتا اور اس کے ساتھ ساتھ میں نے بار بار ذکر کیا ہے کہ میری نبوت سے اللہ کی مراد صرف کثرت مکالمہ و مخاطبہ ہے (اس کے سوا کچھ نہیں) اور یہ اہل سنت کے اکابرین کے ہاں مسلم ہے۔پس یہ نزاع محض لفظی نزاع ہے۔لہذا اے اہل عقل و دانش ! جلد بازی سے کام نہ لواور اللہ کی لعنت ہو اس پر جو ذرہ بھر اس کے خلاف دعوی کرے اور اس کے ساتھ تمام لوگوں اور فرشتوں کی لعنت بھی ہو۔