حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 160
۸۴۲ نہیں کہ جو نبی کریم کی اطاعت سے لا پروا کرتی ہو۔اور اگر بالفرض وہ دو تین آیتیں ان صد ہا آیتوں کے مخالف ہو تیں تب بھی چاہئے تھا کہ قلیل کو کثیر کے تابع کیا جاتا۔نہ کہ کثیر کو بالکل نظر انداز کر کے ارتداد کا جامہ پہن لیں۔اور اس جگہ آیات کلام اللہ میں کوئی تناقض بھی نہیں صرف اپنے فہم کا فرق اور اپنی طبیعت کی تاریکی ہے۔ہمیں چاہئے کہ اللہ کے لفظ کے وہ معنے کریں جو خدا تعالیٰ نے خود کئے ہیں نہ کہ اپنی طرف سے یہودیوں کی طرح اور معنے بناویں۔ماسوا اس کے خدا تعالیٰ کے کلام اور اس کے رسولوں کی قدیم سے یہ سنت ہے کہ وہ ہر ایک سرکش اور سخت منکر کو اس پیرایہ سے بھی ہدایت کیا کرتے ہیں کہ تم صحیح اور خالص طور پر خدا پر ایمان لاؤ اور اس سے محبت کرو اور اس کو واحد لاشریک سمجھو تب تمہاری نجات ہو جائے گی اور اس کلام سے مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ پورے طور سے خدا پر ایمان لائیں گے تو خدا ان کو اسلام قبول کرنے کی توفیق دے دے گا۔قرآن شریف کو یہ لوگ نہیں پڑھتے اس میں صاف لکھا ہے کہ خدا پر سچا ایمان لانا اس کے رسول پر ایمان لانے کے لئے موجب ہو جاتا ہے اور ایسے شخص کا سینہ اسلام کو قبول کرنے کے لئے کھولا جاتا ہے اس لئے میرا بھی یہی دستور ہے کہ جب کوئی آریہ یا برہمو یا عیسائی یا یہودی یا سکھ یا اور منکر اسلام کج بحثی کرتا ہے اور کسی طرح باز نہیں آتا تو آخر کہ دیا کرتا ہوں کہ تمہاری اس بحث سے تمہیں کچھ فائدہ نہیں ہو گا تم خدا پر پورے اخلاص سے ایمان لاؤ اس سے وہ تمہیں نجات دے گا مگر اس کلمہ سے میرا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ بغیر متابعت نبی کریم کے نجات مل سکتی ہے بلکہ میرا یہ مطلب ہوتا ہے کہ جو شخص پورے صدق سے خدا پر ایمان لائے گا خدا اس کو توفیق بخش دے گا اور اپنے رسول پر ایمان لانے کے لئے اس کا سینہ کھول دے گا۔۔یادر ہے کہ اول تو تو حید بغیر پیروی نبی کریم کے کامل طور پر حاصل نہیں ہو سکتی جیسا کہ ابھی ہم بیان کر آئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفات جو اس کی ذات سے الگ نہیں ہوسکتیں۔بغیر آئینہ وحی نبوت کے مشاہدہ میں آ نہیں سکتیں۔ان صفات کو مشاہدہ کے رنگ میں دکھلانے والا محض نبی ہوتا ہے۔علاوہ اس کے اگر بفرض محال حصول ان کا ناقص طور پر ہو جائے تو وہ شرک کی آلائش سے خالی نہیں جب تک کہ خدا اس مغشوش مطاع کو قبول کر کے اسلام میں داخل نہ کرے کیونکہ جو کچھ انسان کو خدا تعالیٰ سے اس کے رسول کی معرفت ملتا ہے وہ ایک آسمانی پانی ہے۔اس میں اپنے فخر اور عجب کو کچھ دخل نہیں لیکن انسان اپنی کوشش سے جو کچھ حاصل کرتا ہے اس میں ضرور کوئی شرک کی آلائش پیدا ہو جاتی ہے۔پس یہی حکمت تھی