حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 157
۸۳۹ یاد رکھو کہ نبیوں کا وجود اس لئے دنیا میں نہیں آتا کہ وہ محض ریاء کاری اور نمود کے طور پر ہو۔اگر ان سے کوئی فیض جاری نہیں ہوتا اور مخلوق کو روحانی فائدہ نہیں پہنچتا تو پھر یہی مانا پڑے گا کہ وہ صرف نمائش کے لئے ہیں اور ان کا عدم وجود معاذ اللہ برابر ہے مگر ایسا نہیں ہے۔وہ دنیا کے لئے بہت سی برکات اور فیوض باعث بنتے ہیں اور ان سے ایک خیر جاری ہوتی ہے جس طرح پر آفتاب سے ساری دنیا فائدہ اٹھاتی ہے اور اس کا فائدہ کسی خاص حد تک جا کر بند نہیں ہوتا بلکہ جاری رہتا ہے اسی طرح پر آنحضرت ﷺ کے فیوض و برکات کا آفتاب ہمیشہ چمکتا ہے اور سعادت مندوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔قُل اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ یا یعنی ان کو کہہ دو کہ اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بن جاؤ تو میری اطاعت کرو۔اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔آپ کی سچی اطاعت اور اتباع انسان کو خدا تعالیٰ کا محبوب بنادیتی ہے اور گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہوتی ہے۔الحکم مورخہ ۳۱ رمئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۔ملفوظات جلد دوم صفحه ۳۹، ۴۰ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) سوال (۸) اگر چہ ہمارا ایمان ہے کہ نری خشک توحید مدار نجات نہیں ہو سکتی اور آنحضرت علی کی پیروی سے علیحدہ ہو کر کوئی عمل کرنا انسان کو نا جی نہیں بنا سکتا لیکن طمانیت قلب کے لئے عرض پرداز ہیں کہ عبدالحکیم خان نے جو آیات لکھی ہیں ان کا کیا مطلب ہے؟ مثلاً : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا والنصرى والبِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ہے اور جیسا کہ یہ آیت بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَرَ به سے اور جیسا کہ یہ آیت تَعَالَوْا إِلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ الجواب۔واضح ہو کہ قرآن شریف میں ان آیات کے ذکر کرنے سے یہ مطلب نہیں ہے کہ بغیر اس کے جو رسول پر ایمان لایا جائے نجات ہو سکتی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ بغیر اس کے کہ خدائے واحد لاشریک اور یوم آخرت پر ایمان لایا جاوے نجات نہیں ہوسکتی اور اللہ پر پورا ایمان تبھی ہوسکتا ہے کہ اس کے رسولوں پر ایمان لاوے۔وجہ یہ کہ وہ اس کی صفات کے مظہر ہیں اور کسی چیز کا وجود بغیر وجود اس کی صفات کے بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا۔لہذا بغیر علم صفات باری تعالیٰ کے معرفت باری تعالی ناقص رہ جاتی ہے کیونکہ مثلاً یہ صفات اللہ تعالیٰ کے کہ وہ بولتا ہے سنتا ہے پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔رحمت یا عذاب کرنے پر قدرت ال عمران:۳۲ البقرة: ٦٣ البقرة :١١٣ ال عمران: ۶۵