حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 12
۶۹۴ کا جامہ پہننا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ یہ غرض اس زمانہ میں بالائے طاق ہے اور اکثر لوگ دہریہ مذہب کی کسی شاخ کو اپنے ہاتھ میں لئے بیٹھے ہیں اور خدا تعالیٰ کی شناخت بہت کم ہو گئی ہے۔اسی وجہ سے زمین پر دن بدن گناہ کرنے کی دلیری بڑھتی جاتی ہے کیونکہ یہ بدیہی بات ہے کہ جس چیز کی شناخت نہ ہو نہ اس کا قدر دل میں ہوتا ہے اور نہ اس کی محبت ہوتی ہے اور نہ اس کا خوف ہوتا ہے۔تمام اقسام خوف و محبت اور قدردانی کے شناخت کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔پس اس سے ظاہر ہے کہ آج کل دنیا میں گناہ کی کثرت بوجہ کی معرفت ہے اور بچے مذہب کی نشانیوں میں سے یہ ایک عظیم الشان نشانی ہے کہ خدا تعالیٰ کی معرفت اور اس کی پہچان کے وسائل بہت سے اس میں موجود ہوں۔تا انسان گناہ سے رُک سکے اور تا وہ خدا تعالیٰ کے حسن و جمال پر اطلاع پا کر کامل محبت اور عشق کا حصہ لیوے اور تا وہ قطع تعلق کی حالت کو جہنم سے زیادہ سمجھے۔یہ سچی بات ہے کہ گناہ سے بچنا اور خدا تعالیٰ کی محبت میں محو ہو جانا انسان کے لئے ایک عظیم الشان مقصود ہے اور یہی وہ راحتِ حقیقی ہے جس کو ہم بہشتی زندگی سے تعبیر کر سکتے ہیں۔تمام خواہشیں جو خدا کی رضا مندی کے مخالف ہیں دوزخ کی آگ ہیں اور ان خواہشوں کی پیروی میں عمر بسر کرنا ایک جہنمی زندگی ہے مگر اس جگہ سوال یہ ہے کہ اس جہنمی زندگی سے نجات کیونکر حاصل ہو۔اس کے جواب میں جو علم خدا نے مجھے دیا ہے وہ یہی ہے کہ اس آتش خانہ سے نجات ایسی معرفتِ الہی پر موقوف ہے جو حقیقی اور کامل ہو۔کیونکہ نفسانی جذبات جو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں وہ ایک کامل درجہ کا سیلاب ہے جو ایمان کو تباہ کرنے کے لئے بڑے زور سے بہ رہا ہے اور کامل کا تدارک بجز کامل کے غیر ممکن ہے۔پس اسی وجہ سے نجات حاصل کرنے کے لئے ایک کامل معرفت کی ضرورت ہے۔لیکچر لاہور۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۴۷ تا ۱۴۹) اے پیارو! یہ نہایت سچا اور آزمودہ فلسفہ ہے کہ انسان گناہ سے بچنے کے لئے معرفت تامہ کا محتاج ہے نہ کسی کفارہ کا۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر نوح کی قوم کو وہ معرفت تامہ حاصل ہوتی جو کامل خوف کو پیدا کرتی ہے تو وہ کبھی غرق نہ ہوتی۔اور اگر لوط کی قوم کو وہ پہچان بخشی جاتی تو ان پر پتھر نہ برستے اور اگر اس ملک کو ذات الہی کی وہ شناخت عطا کی جاتی جو بدن پر خوف سے لرزہ ڈالتی ہے تو اس پر طاعون سے وہ تباہی نہ آتی جو آ گئی۔مگر ناقص معرفت کوئی فائدہ پہنچا نہیں سکتی اور نہ اس کا نتیجہ جو خوف اور محبت ہے کامل ہوسکتا ہے۔ایمان جو کامل نہیں وہ بے سود ہے اور محبت جو کامل نہیں وہ بے سود ہے اور خوف جو کامل نہیں وہ بے سود ہے اور معرفت جو کامل نہیں وہ بے سود ہے اور ہر یک غذا اور شربت جو کامل نہیں وہ بے سود