حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 155

۸۳۷ دعا اور تضرع اور ابتہال سے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ نہ کرتا اور خدا کے چہرہ کی چمک دنیا پر ظاہر کرنے کے لئے اپنی قربانی نہ دیتا اور ہر ایک قدم میں صدہا موتیں قبول نہ کرتا تو خدا کا چہرہ دنیا پر ہرگز ظاہر نہ ہوتا کیونکہ خدا تعالی بوجه استغناء ذاتی کے بے نیاز ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے اِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِينَ اور وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ل یعنی خدا تو تمام دنیا سے بے نیاز ہے اور جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں اور ہماری طلب میں کوشش کو انتہا تک پہنچا دیتے ہیں انہیں کے لئے ہمارا یہ قانون قدرت ہے کہ ہم ان کو اپنی راہ دکھلا دیا کرتے ہیں۔سوخدا کی راہ میں سب سے اوّل قربانی دینے والے نبی ہیں۔ہر ایک اپنے لئے کوشش کرتا ہے مگر انبیاءعلہیم السلام دوسروں کے لئے کوشش کرتے ہیں۔لوگ سوتے ہیں اور وہ ان کے لئے جاگتے ہیں اور لوگ ہنستے ہیں اور وہ ان کے لئے روتے ہیں اور دنیا کی رہائی کے لئے ہر ایک مصیبت کو بخوشی اپنے پر وارد کر لیتے ہیں۔یہ سب اس لئے کرتے ہیں کہ تا خدا تعالیٰ کچھ ایسی تجلی فرما دے کہ لوگوں پر ثابت ہو جاوے کہ خدا موجود ہے اور مستعد دلوں پر اس کی ہستی اور اس کی توحید منکشف ہو جاوے تا کہ وہ نجات پائیں۔پس وہ جانی دشمنوں کی ہمدردی میں مر رہتے ہیں اور جب انتہا درجہ پر ان کا درد پہنچتا ہے اور ان کی درد ناک آہوں سے ( جو مخلوق کی رہائی کے لئے ہوتی ہیں ) آسمان پر ہو جاتا ہے تب خدا تعالیٰ اپنے چہرہ کی چمک دکھلاتا ہے اور زبر دست نشانوں کے ساتھ اپنی ہستی اور اپنی توحید لوگوں پر ظاہر کرتا ہے۔پس اس میں شک نہیں کہ تو حید اور خدا دانی کے متاع رسول کے دامن سے ہی دنیا کو ملتی ہے بغیر اس کے ہرگز نہیں مل سکتی اور اس امر میں سب سے اعلیٰ نمونہ ہمارے نبی ﷺ نے دکھایا کہ ایک قوم جو نجاست پر بیٹھی ہوئی تھی ان کو نجاست سے اٹھا کر گلزار میں پہنچا دیا اور وہ جو روحانی بھوک اور پیاس سے مرنے لگے تھے ان کے آگے روحانی اعلیٰ درجہ کی غذا ئیں اور شیریں شربت رکھ دیئے۔ان کو وحشیانہ حالت سے انسان بنایا پھر معمولی انسان سے مہذب انسان بنایا۔پھر مہذب انسان سے کامل انسان بنایا اور اس قدر ان کے لئے نشان ظاہر کئے کہ ان کو خدا دکھلا دیا اور ان میں ایسی تبدیلی پیدا کر دی کہ انہوں نے فرشتوں سے ہاتھ جا ملائے۔یہ تاخیر کسی اور نبی سے اپنی امت کی نسبت ظہور میں نہ آئی کیونکہ ان کے صحبت یاب ناقص رہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۱۶ تا ۱۱۸) یادر ہے کہ خدا کے وجود کا پتہ دینے والے اور اس کے واحد لاشریک ہونے کا علم لوگوں کو سکھلانے ال عمران: ۹۸ العنكبوت:۷٠