حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 152

۸۳۴ جذب وسلوک بعض اشخاص ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے مدارج میں کسب اور سلوک اور مجاہدہ کو کچھ دخل نہیں بلکہ ان کی شکم مادر میں ہی ایک ایسی بناوٹ ہوتی ہے کہ فطرتاً بغیر ذریعہ کسب اور سعی اور مجاہدہ کے وہ خدا سے محبت کرتے ہیں اور اس کے رسول یعنی حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ساتھ ایسا ان کو روحانی تعلق ہو جاتا ہے جس سے بڑھ کر ممکن نہیں اور پھر جیسا جیسا ان پر زمانہ گزرتا ہے وہ اندرونی آگ عشق اور محبت الہی کی بڑھتی جاتی ہے اور ساتھ ہی محبت رسول کی آگ ترقی پکڑتی ہے۔اور ان تمام امور میں خدا ان کا متولی اور متکفل ہوتا ہے اور جب وہ محبت اور عشق کی آگ انتہا تک پہنچ جاتی ہے تب وہ نہایت بے قراری اور دردمندی سے چاہتے ہیں کہ خدا کا جلال زمین پر ظاہر ہو اور اسی میں ان کی لذت اور یہی ان کا آخری مقصد ہوتا ہے۔تب ان کے لئے زمین پر خدا تعالیٰ کے نشان ظاہر ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کسی کے لئے اپنے عظیم الشان نشان ظاہر نہیں کرتا اور کسی کو آئندہ زمانہ کی عظیم الشان خبریں نہیں دیتا مگر انہیں کو جو اس کے عشق اور محبت میں محو ہوتے ہیں اور اس کی توحید اور جلال کے ظاہر ہونے کے ایسے خواہاں ہوتے ہیں جیسا کہ وہ خود ہوتا ہے یہ بات انہیں سے مخصوص ہے کہ حضرت الوہیت کے خاص اسرار ان پر ظاہر ہوتے ہیں اور غیب کی باتیں کمال صفائی سے ان پر منکشف کی جاتی ہیں اور یہ خاص عزت دوسرے کو نہیں دی جاتی۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۶۸) صوفیوں نے ترقیات کی دو راہیں لکھی ہیں ایک سلوک۔دوسرا جذب سلوک وہ ہے جو لوگ آپ عقل مندی سے سوچ کر اللہ و رسول کی راہ اختیار کرتے ہیں جیسے فرمایا قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحِبُكُمُ اللهُ (ال عمران : (۳۲) یعنی اگر تم اللہ کے پیارے بننے چاہتے ہو تو رسول اکرم علیہ الصلوۃ والسلام کی پیروی کرو۔وہ ہادی کامل وہی رسول ہیں جنہوں نے وہ مصائب اٹھائے کہ دنیا اپنے اندر نظیر نہیں رکھتی۔ایک دن بھی آرام نہ پایا۔اب پیروی کرنے والے بھی حقیقی طور سے وہی ہوں گے جو اپنے متبوع کے ہر قول و فعل کی پیروی پوری جدوجہد سے کریں۔متبع وہی ہے جو سب طرح پیروی کرے گا۔سہل انگار اور سخت گزار کو اللہ تعالی پسند نہیں کرتا بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے غضب میں آوے گا۔یہاں جو