حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 148

۸۳۰ مدبر حقیقی کو بچشم خود دیکھتا ہے سو اس طور کی اطلاع کامل جو اسرار سماوی میں اس کو بخشے جاتے ہیں اس کا نام سیر فی اللہ ہے لیکن یہ وہ مرتبہ ہے جس میں محبت الہی انسان کو دی تو جاتی ہے لیکن بطریق طبیعت اس میں قائم نہیں کی جاتی یعنی اس کی سرشت میں داخل نہیں ہوتی بلکہ اس میں محفوظ ہوتی ہے۔اور تیسری ترقی جو قربت کے میدانوں میں چلنے کے لئے انتہائی قدم ہے اس آیت میں تعلیم کی گئی ہے جو فرمایا ہے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالین یا یہ وہ مرتبہ ہے جس میں انسان کو خدا کی محبت اور اس کے غیر کی عداوت سرشت میں داخل ہو جاتی ہے اور بطریق طبعیت اس میں قیام پکڑتی ہے اور صاحب اس مرتبہ کا اخلاق الہیہ سے ایسا ہی بالطبع پیار کرتا ہے کہ جیسے وہ اخلاق حضرت احدیت میں محبوب ہیں اور محبت ذاتی حضرت خداوند کریم کی اس قدر اس کے دل میں آمیزش کر جاتی ہے کہ اس کے دل سے محبت الہی کا منفک ہونا ستحیل اور ممتنع ہوتا ہے اور اگر اس کے دل کو اور اس کی جان کو بڑے بڑے امتحانوں اور ابتلاؤں کے سخت صدمات کے بیچ میں دے کر کوفتہ کیا جائے اور نچوڑا جائے تو بجز محبت الہیہ کے اور کچھ اس کے دل اور جان سے نہیں نکلتا۔اسی کے درد سے لذت پاتا ہے اور اسی کو واقعی اور حقیقی طور پر اپنا دل آرام سمجھتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جس میں تمام ترقیات قرب ختم ہو جاتی ہیں اور انسان اپنے اس انتہائی کمال کو پہنچ جاتا ہے کہ جو فطرت بشری کے لئے مقدر ہے۔( براہین احمدیہ ہر چہار قصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۶ ۵۸ تا ۶۲۴ حاشیہ نمبر۱۱) جاننا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نہایت کریم و رحیم ہے جو شخص اس کی طرف صدق اور صفا سے رجوع کرتا ہے وہ اس سے بڑھ کر اپنا صدق وصفا اس سے ظاہر کرتا ہے۔اس کی طرف صدق دل سے قدم اٹھانے والا ہرگز ضائع نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ میں بڑے بڑے محبت اور وفاداری اور فیض اور احسان اور کرشمہ خدائی دکھلانے کے اخلاق ہیں مگر وہی ان کو پورے طور پر مشاہدہ کرتا ہے جو پورے طور پر اس کی محبت میں محو ہو جاتا ہے۔اگر چہ وہ بڑا کریم ورحیم ہے مگر غنی اور بے نیاز ہے۔اس لئے جو شخص اس کی راہ میں مرتا ہے وہی اس سے زندگی پاتا ہے اور جو اس کے لئے سب کچھ کھوتا ہے اس کو آسمانی انعام ملتا ہے۔خدا تعالیٰ سے کامل تعلق پیدا کرنے والے اس شخص سے مشابہت رکھتے ہیں جو اول دور سے آگ کی روشنی دیکھے اور پھر اس سے نزدیک ہو جائے یہاں تک کہ اس آگ میں اپنے تئیں داخل کر دے اور تمام جسم جل جائے اور صرف آگ ہی باقی رہ جائے۔اسی طرح کامل تعلق والا دن بدن خدا تعالیٰ کے الفاتحة: