حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 141
۸۲۳ کے وجود میں سے کچھ بھی نہیں رہتا اور صرف آئینہ کے رنگ میں ہو جاتا ہے تب ذات الہی کے تمام نقوش اور تمام اخلاق اس میں مندرج ہو جاتے ہیں۔اور جیسا کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ آئینہ جو ایک سامنے کھڑے ہونے والے منہ کے تمام نقوش اپنے اندر لے کر اس منہ کا خلیفہ ہو جاتا ہے اسی طرح ایک مومن بھی ظلمی طور پر اخلاق اور صفات الہیہ کو اپنے اندر لے کر خلافت کا درجہ اپنے اندر حاصل کرتا اور ظلی طور پر الہی صورت کا مظہر ہو جاتا ہے اور جیسا کہ خدا غیب الغیب ہے اور اپنی ذات میں وراء الوراء ہے ایسا ہی یہ مومن کامل اپنی ذات میں غیب الغیب اور وراء الوراء ہوتا ہے۔دنیا اس کی حقیقت تک پہنچ نہیں سکتی کیونکہ وہ دنیا کے دائرہ سے بہت ہی دور چلا جاتا ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ خدا جو غیر متبدل اور حی و قیوم ہے وہ مومن کامل کی اس پاک تبدیلی کے بعد جبکہ مومن خدا کے لئے اپنا وجود بالکل کھو دیتا ہے اور ایک نیا چولہ پاک تبدیلی کا پہن کر اس میں سے اپنا سر نکالتا ہے تب خدا بھی اس کے لئے اپنی ذات میں ایک تبدیلی کرتا ہے۔مگر یہ نہیں کہ خدا کی ازلی ابدی صفات میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے۔نہیں بلکہ وہ قدیم سے اور ازل سے غیر متبدل ہے۔لیکن یہ صرف مومن کامل کے لئے جلوہ قدرت ہوتا ہے اور ایک تبدیلی جس کی ہم گنہ نہیں سمجھ سکتے مومن کی تبدیلی کے ساتھ خدا میں بھی ظہور میں آ جاتی ہے مگر اس طرح پر کہ اس کی غیر متبدل ذات پر کوئی گرد و غبار حدوث کا نہیں بیٹھتا۔وہ اسی طرح غیر متبدل ہوتا ہے جس طرح وہ قدیم سے ہے لیکن یہ تبدیلی جو مومن کی تبدیلی کے وقت ہوتی ہے یہ اس قسم کی ہے جیسا کہ لکھا ہے کہ جب مومن خدائے تعالیٰ کی طرف حرکت کرتا ہے تو خدا اس کی نسبت تیز حرکت کے ساتھ اس کی طرف آتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ تبدیلیوں سے پاک ہے ایسا ہی وہ حرکتوں سے بھی پاک ہے لیکن یہ تمام الفاظ استعارہ کے رنگ میں بولے جاتے ہیں اور بولنے کی اس لئے ضرورت پڑتی ہے کہ تجربہ شہادت دیتا ہے کہ جیسے ایک مومن خدائے تعالیٰ کی راہ میں نیستی اور فنا اور استہلاک کر کے اپنے تیں ایک نیا وجود بناتا ہے اس کی ان تبدیلیوں کے مقابل پر خدا بھی اس کے لئے ایک نیا ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ وہ معاملات کرتا ہے جو دوسرے کے ساتھ کبھی نہیں کرتا اور اس کو اپنے ملکوت اور اسرار کا وہ سیر کراتا ہے جو دوسرے کو ہرگز نہیں دکھلاتا اور اس کے لئے وہ کام اپنے ظاہر کرتا ہے جو دوسروں کے لئے ایسے کام کبھی ظاہر نہیں کرتا اور اس قدر اس کی نصرت اور مدد کرتا ہے کہ لوگوں کو تعجب میں ڈالتا ہے۔اس کے لئے خوراق دکھلاتا ہے اور معجزات ظاہر کرتا اور ہر ایک پہلو سے اس کو غالب کر دیتا ہے اور اس کی ذات میں ایک قوت کشش رکھ دیتا ہے جس سے ایک جہان اس کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے اور وہی