حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 140

۸۲۲ اور الوہیت کے ارادے اس کے وجود میں جوش زن ہو جائیں۔پہلی حکومت بالکل اٹھ جائے اور دوسری حکومت دل میں قائم ہو اور نفسانیت کا گھر ویران ہو اور اس جگہ پر حضرت عزت کے خیمے لگائے جائیں اور ہیبت اور جبروت الہی تمام ان پودوں کو جن کی آبپاشی گندے چشمہ نفس سے ہوتی تھی اس پلید جگہ سے اکھیڑ کر رضا جوئی حضرت عزت کی پاک زمین میں لگا دیئے جائیں اور تمام آرزوئیں اور تمام ارادے اور تمام خواہشیں خدا میں ہو جائیں اور نفس امارہ کی تمام عمارتیں منہدم کر کے خاک میں ملا دی جائیں اور ایک ایسا پاک محل تقدس اور تطہر کا دل میں طیار کیا جاوے جس میں حضرت عزت نازل ہو سکے اور اس کی روح اس میں آباد ہو سکے اس قدر تکمیل کے بعد کہا جائے گا کہ وہ امانتیں جو منعم حقیقی نے انسان کو دی تھیں وہ واپس کی گئیں۔تب ایسے شخص پر یہ آیت صادق آئے گی وَالَّذِينَ هُمْ لِاَ مُنْتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رعون کے اس درجہ پر صرف ایک قالب تیار ہوتا ہے۔اور تجلی الہی کی روح جس سے مراد محبت ذاتیہ حضرت عزت ہے بعد اس کے مع روح القدس ایسے مومن کے اندر داخل ہوتی اور نئی حیات اس کو بخشتی ہے اور ایک نئی قوت اس کو عطا کی جاتی ہے اور اگر چہ یہ سب کچھ روح کے اثر سے ہی ہوتا ہے لیکن ہنوز روح مومن سے صرف ایک تعلق رکھتی ہے اور ابھی مومن کے دل کے اندر آباد نہیں ہوتی۔پھر بعد اس کے وجود روحانی کا مرتبہ ششم ہے۔یہ وہی مرتبہ ہے جس میں مومن کی محبت ذاتیہ اپنے کمال کو پہنچ کر اللہ جل شانہ کی محبت ذاتیہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔تب خدا تعالیٰ کی وہ محبت ذاتی مومن کے اندر داخل ہوتی اور اس پر احاطہ کرتی ہے جس سے ایک نئی اور فوق العادت طاقت مومن کو ملتی ہے۔اور وہ ایمانی طاقت ایمان میں ایک ایسی زندگی پیدا کرتی ہے جیسے ایک قالب بے جان میں روح داخل ہو جاتی ہے بلکہ وہ مومن میں داخل ہو کر در حقیقت ایک روح کا کام کرتی ہے۔تمام قویٰ میں اس سے ایک نور پیدا ہوتا ہے اور روح القدس کی تائید ایسے مومن کے شامل حال ہوتی ہے کہ وہ باتیں اور وہ علوم جو انسانی طاقت سے برتر ہیں وہ اس درجہ کے مومن پر کھولے جاتے ہیں۔اور اس درجہ کا مومن ایمانی ترقیات کے تمام مراتب طے کر کے ان ظلی کمالات کی وجہ سے جو حضرت عزت کے کمالات سے اس کو ملتے ہیں آسمان پر خلیفہ اللہ کا لقب پاتا ہے کیونکہ جیسا کہ ایک شخص جب آئینہ کے مقابل پر کھڑا ہوتا ہے تو تمام نقوش اس کے منہ کے نہایت صفائی سے آئینہ میں منعکس ہو جاتے ہیں۔ایسا ہی اس درجہ کا مومن جو نہ صرف ترک نفس کرتا ہے بلکہ نفی وجود اور ترک نفس کے کام کو اس درجہ کے کمال تک پہنچاتا ہے کہ اس ل المؤمنون: 9