حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 139

۸۲۱ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُوْمًا جھولا ہم نے اپنی امانت کو جو امانت کی طرح واپس دینی چاہئے تمام زمین و آسمان کی مخلوق پر پیش کیا۔پس سب نے اس امانت کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈرے کہ امانت کے لینے سے کوئی خرابی پیدا نہ ہو مگر انسان نے اس امانت کو اپنے سر پر اٹھا لیا کیونکہ وہ ظلوم اور جھول تھا۔یہ دونوں لفظ انسان کے لئے محل مدح میں ہیں نہ محل مذمت میں اور ان کے معنے یہ ہیں کہ انسان کی فطرت میں ایک صفت تھی کہ وہ خدا کے لئے اپنے نفس پر ظلم اور نتی کر سکتا تھا۔اور ایسا خدا تعالیٰ کی طرف جھک سکتا تھا کہ اپنے نفس کو فراموش کر دے۔اس لئے اس نے منظور کیا کہ اپنے تمام وجود کو امانت کی طرح پاوے اور پھر خدا کی راہ میں خرچ کر دے۔اور اس پانچویں مرتبہ کے لئے یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔وَالَّذِينَ هُمْ لا مُنْتِهِمْ وَعَهْدِهِمُ رعون ہے یعنی مومن وہ ہیں جو اپنی امانتوں اور عہدوں کی رعایت رکھتے ہیں۔یعنی ادائے امانت اور ایفائے عہد کے بارے میں کوئی دقیقہ تقوی اور احتیاط کا باقی نہیں چھوڑتے یہ اس امانت کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کا نفس اور اس کے تمام قومی اور آنکھ کی بینائی اور کانوں کی شنوائی اور زبان کی گویائی اور ہاتھوں پیروں کی قوت یہ سب خدا تعالیٰ کی امانتیں ہیں جو اس نے دی ہیں اور جس وقت وہ چاہے اپنی امانتوں کو واپس لے سکتا ہے۔پس ان تمام امانتوں کا رعایت رکھنا یہ ہے کہ بار یک در بار یک تقومی کی پابندی سے خدا تعالیٰ کی خدمت میں نفس اور اس کے تمام قومی اور جسم اور اس کے تمام قومی اور جوارح کو لگایا جائے اس طرح پر کہ گویا یہ تمام چیزیں اس کی نہیں بلکہ خدا کی ہو جائیں اور اس کی مرضی سے نہیں بلکہ خدا کی مرضی کے موافق ان تمام قومی اور اعضاء کا حرکت اور سکون ہو اور اس کا ارادہ کچھ بھی نہ رہے بلکہ خدا کا ارادہ ان میں کام کرے اور خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں اس کا نفس ایسا ہو جیسا کہ مردہ زندہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور یہ خود رائی سے بے دخل ہو اور خدا تعالیٰ کا پورا تصرف اس کے وجود پر ہو جائے۔یہاں تک کہ اسی سے دیکھے اور اسی سے سنے اور اسی سے بولے اور اسی سے حرکت یا سکون کرے اور نفس کی دقیق در دقیق آلائشیں جو کسی خورد بین سے بھی نظر نہیں آ سکتیں دور ہو کر فقط روح رہ جائے۔غرض مھیمنت خدا کی اس پر احاطہ کر لے اور اپنے وجود سے اس کو کھو دے اور اس کی حکومت اپنے وجود پر کچھ نہ رہے اور سب حکومت خدا کی ہو جائے اور نفسانی جوش سب مفقود ہو جائیں الاحزاب : ۷۳ المؤمنون: ٩