حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 10
۶۹۲ نجات انسان اس دار الظلمات میں آ کر کبھی نجات نہیں پا سکتا بجز اس کے کہ خود خدا تعالیٰ کے مکالمات سے مشرف ہو کر یا کسی اہل مکالمہ یقینیہ اور اہل آیات بینہ کی صحبت میں رہ کر اس ضروری اور قطعی علم تک پہنچ جائے کہ اس کا ایک خدا ہے جو قادر اور کریم اور رحیم ہے اور یہ دین یعنی اسلام جس پر یہ قائم ہے در حقیقت یہ سچا ہے اور روز جزا اور بہشت اور دوزخ سب سچ ہے کیونکہ اگر چہ قصہ اور نقل کے طور پر تمام اہل اسلام اس بات کو مانتے ہیں کہ خدا موجود ہے اور اس کا رسول برحق مگر یہ ایمان کوئی یقینی بنیاد نہیں رکھتا اس لئے ایسے ضعیف ایمان کے ذریعہ سے یقینی رنگ کے آثار ظاہر ہونا اور گناہ سے سچی نفرت کرنا غیر ممکن ہے۔نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۴۸۶،۴۸۵) افسوس کہ اکثر لوگ نجات کے حقیقی معنوں سے بے خبر اور غافل ہیں۔عیسائیوں کے نزدیک نجات کے یہ معنے ہیں کہ گناہ کے مواخذہ سے رہائی ہو جائے لیکن دراصل نجات کے یہ معنے نہیں ہیں اور ممکن ہے کہ ایک شخص نہ زنا کرے، نہ چوری کرے، نہ جھوٹی گواہی ، نہ خون کرے اور نہ کسی اور گناہ کا جہاں تک اس کو علم ہے ارتکاب کرے اور بایں ہمہ نجات کی کیفیت سے بے نصیب اور محروم ہو کیونکہ دراصل نجات اس دائمی خوشحالی کے حصول کا نام ہے جس کی بھوک اور پیاس انسانی فطرت کو لگا دی گئی ہے جو محض خدا تعالیٰ کی ذاتی محبت اور اس کی پوری معرفت اور اس کے پورے تعلق کے بعد حاصل ہوتی ہے جس میں شرط ہے کہ دونوں طرف سے محبت جوش مارے۔۔۔۔۔طالب حق کے لئے جو قابل غور سوال ہے وہ یہی سوال ہے کہ سچی خوشحالی کیونکر حاصل ہو جو دانگی مسرت اور خوشی کا موجب ہو۔اور درحقیقت سچے مذہب کی یہی نشانی ہے کہ وہ اس خوشحالی تک پہنچا دے۔سو ہم قرآن شریف کی ہدایت سے اس دقیق در دقیق نکتہ تک پہنچتے ہیں کہ وہ ابدی خوشحالی خدا تعالیٰ کی صحیح معرفت اور پھر اس یگانہ کی پاک اور کامل اور ذاتی محبت اور کامل ایمان میں ہے جو دل میں عاشقانہ بے قراری پیدا کرے۔یہ چند لفظ کہنے کو تو بہت تھوڑے ہیں لیکن ان کی کیفیت کو بیان کرنے کے لئے ایک دفتر بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔(چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۶۰،۳۵۹)