حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 9

۶۹۱ ہو خواہ باطن کا خواہ اسے علم ہو یا نہ ہو اور ہاتھ اور پانوں اور زبان اور ناک اور کان اور آنکھ اور سب قسم کے گناہوں سے استغفار کرتا رہے۔آج کل آدم علیہ السلام کی دعا پڑھنی چاہئے۔رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخُسِرِينَ۔یہ دعا اول ہی قبول ہو چکی ہے۔غفلت سے زندگی بسر مت کرو۔جو شخص غفلت سے زندگی نہیں گذارتا ہر گز امید نہیں کہ وہ کسی فوق الطاقت بلا میں مبتلا ہو۔کوئی بلا بغیر اذن کے نہیں آتی جیسے مجھے یہ دعا الہام ہوئی ہے۔” رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظُنِى وَانْصُرُنِي وَارْحَمْنِي۔، ،، البدر مورخه ۲۶ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۶۶ کالم نمبر ۳۔ملفوظات جلد دوم صفحہ ۵۷۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) غفلت غیر معلوم اسباب سے ہے۔بعض وقت انسان نہیں جانتا اور ایک دفعہ ہی زنگ اور تیرگی اس کے قلب پر آ جاتی ہے۔اس لئے استغفار ہے۔اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ زنگ اور تیرگی نہ آوے۔عیسائی لوگ اپنی بیوقوفی سے اعتراض کرتے ہیں کہ اس سے سابقہ گناہوں کا ثبوت ملتا ہے۔اصل معنے اس کے یہ ہیں کہ گناہ صادر نہ ہوں ورنہ اگر استغفار سابقہ صادر شدہ گناہوں کی بخشش کے معنے رکھتا ہے تو وہ بتلا دیں کہ آئندہ گناہوں کے نہ صادر ہونے کے معنوں میں کونسا لفظ ہے۔غـفر اور کفر کے ایک ہی معنے ہیں۔تمام انبیاء اس کے محتاج تھے۔جتنا کوئی استغفار کرتا ہے اُتنا ہی معصوم ہوتا ہے۔اصل معنے یہ ہیں کہ خدا نے اُسے بچایا۔معصوم کے معنے مُستغفر کے ہیں۔البدر مورخہ یکم دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۵۲ کالم نمبر۔ملفوظات جلد دوم صفحہ ۵۶۰ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) پس اُٹھو! اور تو بہ کرو اور اپنے مالک کو نیک کاموں سے راضی کرو۔اور یاد رکھو کہ اعتقادی غلطیوں کی سزا تو مرنے کے بعد ہے اور ہندو یا عیسائی یا مسلمان ہونے کا فیصلہ تو قیامت کے دن ہو گا لیکن جو شخص ظلم اور تعدی اور فسق و فجور میں حد سے بڑھتا ہے اس کو اسی جگہ سزا دی جاتی ہے۔تب وہ خدا کی سزا سے کسی طرح بھاگ نہیں سکتا۔سو اپنے خدا کو جلد راضی کر لو اور قبل اس کے کہ وہ دن آ وے جو خوفناک دن ہے یعنی طاعون کے زور کا دن جس کی نبیوں نے خبر دی ہے تم خدا سے صلح کر لو۔وہ نہایت درجہ کریم ہے۔ایک دم کے گداز کرنے والی تو بہ سے ستر برس کے گناہ بخش سکتا ہے۔اور یہ مت کہو کہ تو بہ منظور نہیں ہوتی۔یادرکھو کہ تم اپنے اعمال سے کبھی بچ نہیں سکتے۔ہمیشہ فضل بچاتا ہے نہ اعمال۔اے خدائے کریم و رحیم ! ہم سب پر فضل کر کہ ہم تیرے بندے اور تیرے آستانہ پر گرے ہیں۔آمین۔الاعراف: ۲۴ لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۷۴)