حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 132

۸۱۴ ہے لغو خیالات اور لغو شغلوں سے پاک کرے۔کیونکہ جب تک مومن یہ ادنی قوت حاصل نہ کر لے کہ خدا کے لئے لغو باتوں اور لغو کاموں کو ترک کر سکے جو کچھ بھی مشکل نہیں اور صرف گناہ بے لذت ہے۔اس وقت تک یہ طمع خام ہے کہ مومن ایسے کاموں سے دست بردار ہو سکے جن سے دست بردار ہونا نفس پر بہت بھاری ہے اور جن کے ارتکاب میں نفس کو کوئی فائدہ یا لذت ہے۔پس اس سے ثابت ہے کہ پہلے درجہ کے بعد کہ ترک تکبر ہے دوسرا درجہ ترک لغویات ہے۔اور اس درجہ پر وعدہ جو لفظ افلح سے کیا گیا ہے یعنی فوز مرام اس طرح پر پورا ہوتا ہے کہ مومن کا تعلق جب لغو کاموں اور لغوشغلوں سے ٹوٹ جاتا ہے تو ایک خفیف سا تعلق خدا تعالیٰ سے اس کو ہو جاتا ہے اور قوت ایمانی بھی پہلے سے زیادہ بڑھ جاتی ہے اور خفیف تعلق اس لئے ہم نے کہا کہ لغویات سے تعلق بھی خفیف ہی ہوتا ہے۔پس خفیف تعلق چھوڑنے سے خفیف تعلق ہی ملتا ہے۔پھر تیسرا کام مومن کا جس سے تیسرے درجہ تک قوت ایمانی پہنچ جاتی ہے عقل سلیم کے نزدیک یہ ہے کہ وہ صرف لغو کاموں اور لغو باتوں کو ہی خدا تعالیٰ کے لئے نہیں چھوڑ تا بلکہ اپنا عزیز مال بھی خدا تعالیٰ کے لئے چھوڑتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ لغو کاموں کے چھوڑنے کی نسبت مال کا چھوڑ نا نفس پر زیادہ بھاری ہے۔کیونکہ وہ محنت سے کمایا ہوا اور ایک کارآمد چیز ہوتی ہے جس پر خوش زندگی اور آرام کا مدار ہے۔اس لئے مال کا خدا کے لئے چھوڑنا بہ نسبت لغو کاموں کے چھوڑنے کے قوت ایمانی کو زیادہ چاہتا ہے اور لفظ افلح کا جو آیات میں وعدہ ہے اس کے اس جگہ یہ معنے ہوں گے کہ دوسرے درجہ کی نسبت اس مرتبہ میں قوت ایمانی اور تعلق بھی خدا تعالیٰ سے زیادہ ہو جاتی ہے اور نفس کی پاکیزگی اس سے پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ اپنے ہاتھ سے اپنا محنت سے کمایا ہوا مال محض خدا کے خوف سے نکالنا بجر نفس کی پاکیزگی کے ممکن نہیں۔پھر چوتھا کام مومن کا جس سے چوتھے درجہ تک قوت ایمانی پہنچ جاتی ہے عقل سلیم کے نزدیک یہ ہے کہ وہ صرف مال کو خدا تعالیٰ کی راہ میں ترک نہیں کرتا بلکہ وہ چیز جس سے وہ مال سے بھی بڑھ کر پیار کرتا ہے یعنی شہوات نفسانیہ ان کا وہ حصہ جو حرام کے طور پر ہے چھوڑ دیتا ہے۔ہم بیان کر چکے ہیں کہ ہر ایک انسان اپنی شہوات نفسانیہ کو طبعا مال سے عزیز سمجھتا ہے اور مال کو ان کی راہ میں فدا کرتا ہے۔پس بلاشبہ مال کے چھوڑنے سے خدا کے لئے شہوات کو چھوڑنا بہت بھاری ہے اور لفظ افلح جو اس آیت سے بھی تعلق رکھتا ہے اس کے اس جگہ یہ معنی ہیں کہ جیسے شہوات نفسانیہ سے انسان کو طبعا شدید تعلق ہوتا ہے ایسا ہی ان کے چھوڑنے کے بعد وہی شدید تعلق خدا تعالیٰ سے ہو جاتا ہے کیونکہ جو شخص کوئی چیز خدا تعالیٰ کی راہ میں کھوتا ہے