حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 131
۸۱۳ برگشتہ کر سکتا ہے۔غرض کوئی تلخی ان کو ڈرا نہیں سکتی اور کوئی نفسانی لذت ان کو خدا سے روک نہیں سکتی۔اور کوئی تعلق خدا کے تعلق میں رخنہ انداز نہیں ہو سکتا۔یہ تین روحانی مراتب کی حالتیں ہیں جن میں سے پہلی حالت علم الیقین کے نام سے موسوم ہے اور دوسری حالت عین الیقین کے نام سے نامزد ہے اور تیسری مبارک اور کامل حالت حق الیقین کہلاتی ہے اور انسانی معرفت کامل نہیں ہو سکتی اور نہ کدورتوں سے پاک ہو سکتی ہے جب تک حق الیقین تک نہیں پہنچتی کیونکہ حق الیقین کی حالت صرف مشاہدات پر موقوف نہیں بلکہ یہ بطور حال کے انسان کے دل پر وارد ہو جاتی ہے اور انسان محبت الہی کی بھڑکتی ہوئی آگ میں پڑ کر اپنے نفسانی وجود سے بالکل نیست ہو جاتا ہے اور اس مرتبہ پر انسانی معرفت پہنچ کر قال سے حال کی طرف انتقال کرتی ہے اور سفلی زندگی بالکل جل کر خاک ہو جاتی ہے اور ایسا انسان خدا تعالیٰ کی گود میں بیٹھ جاتا ہے اور جیسا کہ ایک لوہا آگ میں پڑ کر بالکل آگ کی رنگ میں آ جاتا ہے اور آگ کی صفات اس سے ظاہر ہونی شروع ہو جاتی ہیں ایسا ہی اس درجہ کا آدمی صفات الہیہ سے ظلی طور پر متصف ہو جاتا ہے اور اس قدر طبعا مرضات الہیہ میں فنا ہو جاتا ہے کہ خدا میں ہو کر بولتا ہے اور خدا میں ہو کر دیکھتا ہے اور خدا میں ہو کر سنتا ہے اور خدا میں ہو کر چلتا ہے۔گویا اس کے جبہ میں خدا ہی ہوتا ہے اور انسانیت اس کی تجلیات الہیہ کے نیچے مغلوب ہو جاتی ہے چونکہ یہ مضمون نازک ہے اور عام فہم نہیں اس لئے ہم اس کو اسی جگہ چھوڑتے ہیں۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۲ تا ۲۵) ان آیات میں چھ جگہ اَفْلَحَ کا لفظ ہے۔پہلی آیت میں صریح طور پر جیسا کہ فرمایا ہے۔قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَشِعُونَ اے اور بعد کی آیتوں میں عطف کے ذریعہ سے معلوم ہوتا ہے اور اَفْلَحَ کے لغت میں یہ معنے ہیں کہ اُصِیرَ إِلَى الْفَلَاحِ یعنی فوز مرام کی طرف پھیرا گیا اور حرکت دیا گیا۔پس ان معنوں کی رو سے مومن کا نماز میں خشوع اختیار کرنا فوز مرام کے لئے پہلی حرکت ہے جس کے ساتھ تکبر اور عجب وغیرہ چھوڑنا پڑتا ہے اور اس میں فوز مرام یہ ہے کہ انسان کا نفس خشوع کی سیرت اختیار کر کے خدائے تعالیٰ سے تعلق پکڑنے کے لئے مستعد اور طیار ہو جاتا ہے۔دوسرا کام مومن کا یعنی وہ کام جس سے دوسرے مرتبہ تک قوت ایمانی پہنچتی ہے اور پہلے کی نسبت ایمان کچھ قوی ہو جاتا ہے عقل سلیم کے نزدیک یہ ہے کہ مومن اپنے دل کو جو خشوع کے مرتبہ تک پہنچ چکا ا المؤمنون: ٣،٢