حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 130

۸۱۲ ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ بعض ان میں ایسے ہیں کہ ہمیشہ بدخوا میں ہی ان کو آتی ہیں اور وہ بچی بھی ہو جاتی ہیں۔گویا ان کے دماغ کی بناوٹ صرف بد اور منحوس خوابوں کے لئے مخلوق ہے۔نہ اپنے لئے کوئی بہتری کے خواب دیکھ سکتے ہیں جس سے ان کی دنیا درست ہو اور ان کی مرادیں حاصل ہوں اور نہ اوروں کے لئے کوئی بشارت کی خواب دیکھتے ہیں۔ان لوگوں کے خوابوں کی حالت اقسام ثلاثہ میں اس جسمانی نظارہ سے مشابہ ہے جبکہ ایک شخص دور سے صرف ایک دھواں آگ کا دیکھتا ہے مگر آگ کی روشنی نہیں دیکھتا اور نہ آگ کی گرمی محسوس کرتا ہے کیونکہ یہ لوگ خدا سے بالکل بے تعلق ہیں اور روحانی امور سے صرف ایک دھواں ان کی قسمت میں ہے جس سے کوئی روشنی حاصل نہیں ہوتی۔پھر دوسری قسم کے خواب بین یا ملہم وہ لوگ ہیں جن کو خدا تعالیٰ سے کسی قدر تعلق ہے مگر کامل تعلق نہیں۔ان لوگوں کی خوابوں یا الہاموں کی حالت اس جسمانی نظارہ سے مشابہ ہے جبکہ ایک شخص اندھیری رات اور شَدِيدُ الْبَرد رات میں دور سے ایک آگ کی روشنی دیکھتا ہے۔اس دیکھنے سے اتنا فائدہ تو اسے حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ ایسی راہ پر چلنے سے پر ہیز کرتا ہے جس میں بہت سے گڑھے اور کانٹے اور پتھر اور سانپ اور درندے ہیں۔مگر اس قدر روشنی اس کو سردی اور ہلاکت سے بچا نہیں سکتی۔پس اگر وہ آگ کے گرم حلقہ تک پہنچ نہ سکے تو وہ بھی ایسا ہی ہلاک ہو جاتا ہے جیسا کہ اندھیرے میں چلنے والا ہلاک ہو جاتا ہے۔پھر تیسری قسم کے مہم اور خواب بین وہ لوگ ہیں جن کے خوابوں اور الہاموں کی حالت اس جسمانی نظارہ سے مشابہ ہے جب کہ ایک شخص اندھیری اور شدید البردرات میں نہ صرف آگ کی کامل روشنی ہی پاتا ہے اور اس میں چلتا ہے بلکہ اس کے گرم حلقہ میں داخل ہو کر بکلی سردی کے ضرر سے محفوظ ہو جاتا ہے۔اس مرتبہ تک وہ لوگ پہنچتے ہیں جو شہوات نفسانیہ کا چولہ آتش محبت الہی میں جلا دیتے ہیں اور خدا کے لئے تلخی کی زندگی اختیار کر لیتے ہیں۔وہ دیکھتے ہیں جو آگے موت ہے اور دوڑ کر اس موت کو اپنے لئے پسند کر لیتے ہیں۔وہ ہر ایک درد کو خدا کی راہ میں قبول کرتے ہیں اور خدا کے لئے اپنے نفس کے دشمن ہوکر اور اس کے برخلاف قدم رکھ کر ایسی طاقت ایمانی دکھلاتے ہیں کہ فرشتے بھی ان کے اس ایمان سے حیرت اور تعجب میں پڑ جاتے ہیں۔وہ روحانی پہلوان ہوتے ہیں اور شیطان کے تمام حملے ان کی روحانی قوت کے آگے بیچ ٹھہرتے ہیں۔وہ بچے وفادار اور صادق مرد ہوتے ہیں کہ نہ دنیا کے لذات کے نظارے انہیں گمراہ کر سکتے ہیں اور نہ اولاد کی محبت اور نہ بیوی کا تعلق ان کو اپنے محبوب حقیقی سے