حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 126

۸۰۸ جا پڑتا ہے۔دھویا جاتا ہے اور صاف کیا جاتا ہے اور خدا نیکی کی محبت کو اپنے ہاتھ سے اس کے دل میں لکھ دیتا ہے اور بدی کا گند اپنے ہاتھ سے اس کے دل سے باہر پھینک دیتا ہے۔سچائی کی فوج سب کی سب دل کے شہرستان میں آجاتی ہے اور فطرت کے تمام برجوں پر راستبازی کا قبضہ ہو جاتا ہے۔اور حق کی فتح ہوتی ہے اور باطل بھاگ جاتا ہے اور اپنے ہتھیار پھینک دیتا ہے۔اس شخص کے دل پر خدا کا ہاتھ ہوتا ہے اور ہر ایک قدم خدا کے زیر سایہ چلتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ آیات ذیل میں انہی امور کی طرف اشارہ فرماتا ہے:۔أُوليك كَتَبَ فِي قُلُوْبِهِمُ الْإِيْمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوجٍ مِّنْهُ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَزَهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَيْكَ هُمُ الرُّشِدُونَ فَضْلًا مِنَ اللهِ وَنِعْمَةً وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ : جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا۔یہ تمام اشارات اس روحانی حالت کی طرف ہیں جو تیسرے درجہ پر انسان کو حاصل ہوتی ہے۔اور سچی بینائی انسان کو کبھی نہیں مل سکتی جب تک یہ حالت اس کو حاصل نہ ہو اور یہ جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے ایمان ان کے دل میں اپنے ہاتھ سے لکھا اور روح القدس سے ان کی مدد کی یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کو سچی طہارت اور پاکیزگی کبھی حاصل نہیں ہوسکتی جب تک آسمانی مدد اس کے شامل حال نہ ہو۔نفس لوامہ کے مرتبہ پر انسان کا یہ حال ہوتا ہے کہ بار بار تو بہ کرتا اور بار بار گرتا ہے بلکہ بسا اوقات اپنی صلاحیت سے نا امید ہو جاتا ہے اور اپنے مرض کو نا قابل علاج سمجھ لیتا ہے اور ایک مدت تک ایسا ہی رہتا ہے اور پھر جب وقت مقدر پورا ہو جاتا ہے تو رات یا دن کو یکدفعہ ایک نو ر اس پر نازل ہوتا ہے اور اس نور میں الہی قوت ہوتی ہے۔اس نور کے نازل ہونے کے ساتھ ہی ایک عجیب تبدیلی اس کے اندر پیدا ہو جاتی ہے اور غیبی ہاتھ کا ایک قوی تصرف محسوس ہوتا ہے اور ایک عجیب عالم سامنے آ جاتا ہے۔اس وقت انسان کو پتہ لگتا ہے کہ خدا ہے اور آنکھوں میں وہ نور آ جاتا ہے جو پہلے نہیں تھا لیکن اس راہ کو کیونکر حاصل کریں اور اس روشنی کو کیونکر پاویں۔سو جاننا چاہئے کہ اس دنیا میں جو دارالاسباب ہے ہر ایک معلول کے لئے ایک علت ہے اور ہر ایک حرکت کے لئے ایک محرک ہے اور ہر ایک علم حاصل کرنے کے لئے ایک راہ ہے جس کو صراط مستقیم کہتے ہیں۔دنیا میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو بغیر پابندی ان قواعد کے مل سکے جو قدرت نے ابتدا سے اس کے لئے مقرر کر رکھے ہیں۔قانون قدرت بتلا رہا ہے المجادلة: ٢٣ الحجرات: ٩،٨ بنی اسراءیل ۸۲