حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 127

1+9 کہ ہر ایک چیز کے حصول کے لئے ایک صراط مستقیم ہے اور اس کا حصول اسی پر قدرتاً موقوف ہے مثلاً اگر ہم ایک اندھیری کوٹھڑی میں بیٹھے ہوں اور آفتاب کی روشنی کی ضرورت ہو تو ہمارے لئے یہ صراط مستقیم ہے کہ ہم اس کھڑکی کو کھول دیں جو آفتاب کی طرف ہے تب یکدفعہ آفتاب کی روشنی اندر آ کر ہمیں منور کر دے گی۔سوظاہر ہے کہ اسی طرح خدا کے بچے اور واقعی فیوض پانے کے لئے کوئی کھڑکی اور پاک روحانیت کے حاصل کرنے کے لئے کوئی خاص طریق ہوگا اور وہ یہ ہے کہ روحانی امور کے لئے صراط مستقیم کی تلاش کریں جیسا کہ ہم اپنی زندگی کے تمام امور میں اپنی کامیابیوں کے لئے صراط مستقیم کی تلاش کرتے رہتے ہیں۔مگر کیا وہ یہ طریق ہے کہ ہم صرف اپنی ہی عقل کے زور سے اور اپنی ہی خود تراشیدہ باتوں سے خدا کے وصال کو ڈھونڈیں۔کیا محض ہماری ہی اپنی منطق اور فلسفہ سے اس کے وہ دروازے ہم پر کھلتے ہیں جن کا کھلنا اس کے قومی ہاتھ پر موقوف ہے۔یقینا سمجھو کہ یہ بالکل صحیح نہیں ہے ہم اُس حی و قیوم کو محض اپنی ہی تدبیروں سے ہرگز نہیں پا سکتے بلکہ اس راہ میں صراط مستقیم صرف یہ ہے کہ پہلے ہم اپنی زندگی معہ اپنی تمام قوتوں کے خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر کے پھر خدا کے وصال کے لئے دعا میں لگے رہیں تا خدا کو خدا ہی کے ذریعہ سے پاویں۔اور سب سے زیادہ پیاری دعا جو عین محل اور موقع سوال کا ہمیں سکھاتی ہے اور فطرت کے روحانی جوش کا نقشہ ہمارے سامنے رکھتی ہے وہ دعا ہے جو خدائے کریم نے اپنی پاک کتاب قرآن شریف میں یعنی سورہ فاتحہ میں ہمیں سکھائی ہے اور وہ یہ ہے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کے تمام پاک تعریفیں جو ہو سکتی ہیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا اور قائم رکھنے والا ہے۔الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ یہ وہی خدا جو ہمارے اعمال سے پہلے ہمارے لئے رحمت کا سامان میسر کرنے والا ہے۔اور ہمارے اعمال کے بعد رحمت کے ساتھ جزا دینے والا ہے۔مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے وہ خدا جو جزا کے دن کا وہی ایک مالک ہے کسی اور کو وہ دن نہیں سونپا گیا۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے اے وہ جو ان تعریفوں کا جامع ہے ہم تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور ہم ہر ایک کام میں تو فیق تجھ ہی سے چاہتے ہیں۔اس جگہ ہم کے لفظ سے پرستش کا اقرار کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہمارے تمام قومی تیری پرستش میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے آستانہ پر جھکے ہوئے ہیں کیونکہ انسان باعتبار اپنے اندرونی قومی کے ایک جماعت اور ایک تاج الفاتحة: ۱تا۵