حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 109

۷۹۱ جو کسی فلسفی کے کانوں نے اس کو نہیں سنا اور نہ اس کی آنکھ نے دیکھا اور نہ کبھی اس کے دل میں گذرا۔لیکن اس کے مقابلہ پر خشک فلاسفروں کا جھوٹا اور مغشوش فلسفہ جس پر آج کل کے نو تعلیم یافتہ لوگ فریفتہ ہو رہے ہیں اور جس کے بد نتائج کی بے خبری نے بہت سے سادہ لوحوں کو برباد کر دیا ہے۔یہ ہے کہ جب تک کسی اصل یا فرع کا قطعی طور پر فیصلہ نہ ہو جائے اور بکلی اس کا انکشاف نہ ہو جائے تب تک اس کو ہرگز مانا نہیں چاہئے گو خدا ہو یا کوئی اور چیز ہو۔ان میں سے اعلیٰ درجہ کے اور کامل فلاسفر جنہوں نے ان اصولوں کی سخت پابندی اختیار کی تھی انہوں نے اپنا نام محققین رکھا جن کا دوسرا نام دہر یہ بھی ہے۔ان کامل فلاسفروں کا بہ پابندی اپنے اصول قدیمہ کے یہ مذہب رہا ہے کہ چونکہ خدائے تعالیٰ کا وجود قطعی طور پر بذریعہ عقل ثابت نہیں ہو سکتا اور نہ ہم نے اس کو بچشم خود دیکھا اس لئے ایسے خدا کا ماننا ایک امر مظنون اور مشتبہ کا مان لینا ہے جو اصول مقررہ فلسفہ سے بکلی بعید ہے۔سو انہوں نے پہلے ہی خدائے تعالیٰ کو درمیان سے اڑایا۔پھر فرشتوں کا یوں فیصلہ کیا کہ یہ بھی خدائے تعالی کی طرح نظر نہیں آتے چلو یہ بھی درمیان سے اٹھاؤ۔پھر روحوں کی طرف متوجہ ہوئے اور یہ رائے ظاہر کی کہ ہم کوئی ثبوت قابل اطمینان اس بات پر نہیں دیکھتے کہ بعد مرنے کے روح باقی رہ جاتی ہے نہ کوئی روح نظر آتی ہے اور نہ واپس آکر کچھ اپنا قصہ سناتی ہے بلکہ سب روحیں مفارقت بدن کے بعد خدا اور فرشتوں کی طرح بے اثر اور بے نشان ہیں سو ان کا بھی وجود ماننا خلاف دلیل و برہان ہے۔ان سب فیصلوں کے بعد ان کی نظر عمیق نے تکالیف شرعیہ کی مشقت اور حلال حرام کا فرق اصول فلسفہ کا سخت مخالف سمجھا اس لئے انہوں نے صاف صاف اپنی رائے ظاہر کر دی کہ ماں اور بہن اور جو رو میں فرق کرنا یا اور چیزوں میں سے بلا ثبوت ضرر طبعی بعض چیزوں کو حرام سمجھ لینا یہ سب بناوٹی باتیں ہیں جن پر کوئی فلسفی دلیل قائم نہیں ہو سکتی۔اسی طرح انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ نگا رہنے میں کوئی شناعت عقلی ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس میں طبی قواعد کی رو سے فوائد ہیں۔اسی طرح ان فلاسفروں کے اور بھی مسائل ہیں اور خلاصہ ان کے مذہب کا یہی ہے کہ وہ بجز دلائل قطعیہ عقلیہ کے کسی چیز کو نہیں مانتے اور ان کی فلسفیانہ نگاہ میں گوکیسی کوئی بد عملی ہو جب تک براہین قطعیہ فلسفیہ سے اس کا بد ہونا ثابت نہ ہولے یعنی جب تک اس میں کوئی طبی ضرر یا دنیوی بدانتظامی متصور نہ ہو تب تک اس کا ترک کرنا بے جا ہے مگر جو دوسرے درجہ کے فلاسفر ہیں انہوں نے لوگوں کے لعن طعن سے اندیشہ کر کے اپنے فلاسفری اصولوں کو کچھ نرم کر دیا ہے اور قوم کے خوف اور ہم جنسوں کی شرم سے خدا اور عالم جزا اور دوسری کئی باتوں کو ظنی طور پر تسلیم کر بیٹھے ہیں لیکن یہ اعلیٰ درجہ کے فلاسفران کو