حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 101
۷۸۳۔إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ أُولَيْكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتُ مِنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَبِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ ہے یعنی اے مومنو! ہم تمہیں اس طرح پر آزماتے رہیں گے کہ کبھی کوئی خوفناک حالت تم پر طاری ہوگی اور کبھی فقر و فاقہ تمہارے شامل حال ہو گا اور کبھی تمہارا مالی نقصان ہو گا اور کبھی جانوں پر آفت آئے گی۔اور کبھی اپنی محنتوں میں ناکام رہو گے اور حسب المراد نتیجے کوششوں کے نہیں نکلیں گے۔اور کبھی تمہاری پیاری اولا د مرے گی۔پس ان لوگوں کو خوشخبری ہو کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم خدا کی چیزیں اور اس کی امانتیں اور اس کے مملوک ہیں۔پس حق یہی ہے کہ جس کی امانت ہے اس کی طرف رجوع کرے۔یہی لوگ ہیں جن پر خدا کی رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہیں جو خدا کی راہ کو پا گئے۔غرض اس خلق کا نام صبر اور رضا برضائے الہی ہے اور ایک طور سے اس خلق کا نام عدل بھی ہے۔کیونکہ جبکہ خدا تعالیٰ انسان کی تمام زندگی میں اس کی مرضی کے موافق کام کرتا ہے اور نیز ہزار ہا باتیں اس کی مرضی کے موافق ظہور میں لاتا ہے اور انسان کی خواہش کے مطابق اس قدر نعمتیں اس کو دے رکھی ہیں کہ انسان شمار نہیں کر سکتا تو پھر یہ شرط انصاف نہیں کہ اگر وہ کبھی اپنی مرضی بھی منوانا چاہے تو انسان منحرف ہو اور اس کی رضا کے ساتھ راضی نہ ہو۔اور چون و چرا کرے یا بے دین اور بے راہ ہو جائے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۶۲،۳۶۱) نماز اور استغفار دل کی غفلت کے عمدہ علاج ہیں۔نماز میں دعا کرنی چاہئے کہ مجھ میں اور میرے گناہ میں دوری ڈال۔صدق سے انسان دعا کرتا رہے تو یہ یقینی بات ہے کہ کسی وقت منظور ہو جاوے۔جلدی کرنی اچھی نہیں ہوتی۔زمیندار ایک کھیت ہوتا ہے تو اسی وقت نہیں کاٹ لیتا۔بے صبری کرنے والا بے نصیب ہوتا ہے۔نیک انسان کی یہ علامت ہے کہ وہ بے صبری نہیں کرتا۔بے صبری کرنے والے بڑے بڑے بد نصیب دیکھے گئے ہیں۔اگر ایک انسان کنو آں کھو دے اور ہیں ہاتھ کھودے اور ایک ہاتھ رہ جائے تو اس وقت بے صبری سے چھوڑ دے تو اپنی ساری محنت کو برباد کرتا ہے۔اور اگر صبر سے ایک ہاتھ اور بھی کھود لے تو گوہر مقصود پالیوے۔یہ خدا کی عادت ہے کہ ذوق اور شوق اور معرفت کی نعمت ہمیشہ دکھ کے بعد دیا کرتا ہے۔اگر ہر ایک نعمت آسانی سے مل جاوے تو اس کی قدر نہیں ہوا کرتی۔سعدیؒ نے کیا عمدہ کہا ہے۔البقرة: ۱۵۶ تا ۱۵۸