حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 100 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 100

۷۸۲ دینے کے لئے اتفاق کر گئے ہیں سو تم لوگوں سے ڈرو۔پس ڈرانے سے اور بھی ان کا ایمان بڑھتا ہے۔اور کہتے ہیں کہ خدا ہمیں کافی ہے۔یعنی ان کی شجاعت کتوں اور درندوں کی طرح نہیں ہوتی جو صرف طبعی جوش پر مبنی ہو جس کا ایک ہی پہلو پر میل ہو بلکہ ان کی شجاعت دو پہلو رکھتی ہے۔کبھی تو وہ اپنی ذاتی شجاعت سے اپنے نفس کے جذبات کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس پر غالب آتے ہیں اور کبھی جب دیکھتے ہیں کہ دشمن کا مقابلہ قرین مصلحت ہے تو نہ صرف جوش نفس سے بلکہ سچائی کی مدد کے لئے دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں مگر نہ اپنے نفس پر بھروسہ کر کے بلکہ خدا پر بھروسہ کر کے بہادری دکھاتے ہیں اور ان کی شجاعت میں ریا کاری اور خود بینی نہیں ہوتی اور نہ نفس کی پیروی بلکہ ہر ایک پہلو سے خدا کی رضا مقدم ہوتی ہے۔ان آیات میں یہ سمجھایا گیا ہے کہ حقیقی شجاعت کی جڑھ صبر اور ثابت قدمی ہے اور ہر ایک جذ بہ نفسانی یا بلا جو دشمنوں کی طرح حملہ کرے۔اس کے مقابلہ پر ثابت قدم رہنا اور بزدل ہو کر بھاگ نہ جانا یہی شجاعت ہے۔سوانسان اور درندہ کی شجاعت میں بڑا فرق ہے۔درندہ ایک ہی پہلو پر جوش اور غضب سے کام لیتا ہے اور انسان جو حقیقی شجاعت رکھتا ہے وہ مقابلہ اور ترک مقابلہ میں جو کچھ قرین مصلحت ہو وہ اختیار کر لیتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۵۸ تا ۳۶۰) منجملہ انسان کے طبعی امور کے ایک صبر ہے جو اس کو ان مصیبتوں اور بیماریوں اور دکھوں پر کرنا پڑتا ہے جو اس پر ہمیشہ پڑتے رہتے ہیں اور انسان بہت سے سیاپے اور جزع فزع کے بعد صبر اختیار کرتا ہے۔لیکن جاننا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی پاک کتاب کے رو سے وہ صبر اخلاق میں داخل نہیں ہے بلکہ وہ ایک حالت ہے جو تھک جانے کے بعد ضرور تا ظاہر ہو جاتی ہے۔یعنی انسان کی طبعی حالتوں میں سے یہ بھی ایک حالت ہے کہ وہ مصیبت کے ظاہر ہونے کے وقت پہلے روتا چیختا سر پیٹتا ہے۔آخر بہت سا بخار نکال کر جوش تھم جاتا ہے اور انتہا تک پہنچ کر پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔پس یہ دونوں حرکتیں طبعی حالتیں ہیں۔ان کو خلق سے کچھ تعلق نہیں بلکہ اس کے متعلق خلق یہ ہے کہ جب کوئی چیز اپنے ہاتھ سے جاتی رہے تو اس چیز کو خدا تعالی کی امانت سمجھ کر کوئی شکایت منہ پر نہ لاوے اور یہ کہہ کر کہ خدا کا تھا خدا نے لے لیا اور ہم اس کی رضا کے ساتھ راضی ہیں۔اس کے متعلق خدا تعالیٰ کا پاک کلام قرآن شریف ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے:۔وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا