حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 99
فحشا بن جائے گا یعنی حد سے اتنا تجاوز کرنا کہ نا پاک صورت ہو جائے اور ایسا ہی بجائے احسان کے منکر کی صورت نکل آئے گی یعنی وہ صورت جس سے عقل اور کانشنس انکار کرتا ہے اور بجائے ایتاء ذی القربی کے بغی بن جائے گا یعنی وہ بے محل ہمدردی کا جوش ایک بُری صورت پیدا کرے گا۔اصل میں بغی اس بارش کو کہتے ہیں جو حد سے زیادہ برس جائے اور کھیتوں کو تباہ کر دے اور حق واجب میں کمی رکھنے کو بغی کہتے ہیں اور یا حق واجب سے افزونی کرنا بھی بغی ہے۔غرض ان تینوں میں سے جو محل پر صادر نہیں ہوگا وہی خراب سیرت ہو جائے گی۔اسی لئے ان تینوں کے ساتھ موقع اور محل کی شرط لگا دی ہے۔اس جگہ یاد رہے کہ مجرد عدل یا احسان یا ہمدردی ذی القربیٰ کو خلق نہیں کہہ سکتے بلکہ انسان میں یہ سب طبعی حالتیں اور طبعی قو تیں ہیں کہ جو بچوں میں بھی وجود عقل سے پہلے پائی جاتی ہیں مگر خلق کے لئے عقل شرط ہے اور نیز یہ شرط ہے کہ ہر ایک طبعی قوت محل اور موقع پر استعمال ہو۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳ ۳۵ ۳۵۴) منجملہ انسان کی طبعی حالتوں کے وہ حالت ہے جو شجاعت سے مشابہ ہوتی ہے جیسا کہ شیر خوار بچہ بھی اسی قوت کی وجہ سے کبھی آگ میں ہاتھ ڈالنے لگتا ہے کیونکہ انسان کا بچہ باعث فطرتی جو ہر غلبہ انسانیت کے ڈرانے والے نمونوں سے پہلے کسی چیز سے بھی نہیں ڈرتا۔اس حالت میں انسان نہایت بے باکی سے شیروں اور دوسرے جنگلی درندوں کا بھی مقابلہ کرتا ہے اور تن تنہا مقابلہ کے لئے کئی آدمیوں کے لڑنے کے لئے نکلتا ہے اور لوگ جانتے ہیں کہ بڑا بہادر ہے لیکن یہ صرف ایک طبعی حالت ہے کہ جس طرح اور درندوں میں پیدا ہوتی ہے بلکہ کتوں میں بھی پائی جاتی ہے ایسا ہی انسانوں میں پائی جاتی ہے اور حقیقی شجاعت جو محل اور موقع کے ساتھ خاص ہے اور جو اخلاق فاضلہ میں سے ایک خلق ہے وہ ان محل اور موقع کے امور کا نام ہے جن کا ذکر خدا تعالیٰ کے پاک کلام میں اس طرح پر آیا ہے۔والصبِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِيْنَ الْبَأْسِ وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ الَّذِيْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمُ إِيْمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا و رِئَاءَ النَّاسِ ہے یعنی بہادر وہ ہیں کہ جب لڑائی کا موقعہ آ پڑے یا ان پر کوئی مصیبت آ پڑے تو بھاگتے نہیں ان کا صبر لڑائی اور سختیوں کے وقت میں خدا کی رضا مندی کے لئے ہوتا ہے اور اس کے چہرہ کے طالب ہوتے ہیں نہ کہ بہادری دکھلانے کے۔ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ لوگ تمہیں سزا البقرة: ۱۷۸ الرعد: ٢٣ ال عمران : ۱۷۴ الانفال: ۴۸