حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 97
ہرگز کامل نہیں ہو سکتی بلکہ یہ ان ایام کی تدبیر ہے کہ جب قوم بنی اسرائیل کا اندرونی رحم بہت کم ہو گیا تھا اور بے رحمی اور بے مروتی اور سنگدلی اور قساوت قلبی اور کینہ کشی حد سے زیادہ بڑھ گئی تھی اور خدا کو منظور تھا کہ جیسا وہ لوگ مبالغہ سے کینہ کشی کی طرف مائل تھے ایسے ہی بمبالغہ تمام رحم اور درگذر کی طرف مائل کیا جاوے لیکن یہ رحم اور درگزر کی تعلیم ایسی تعلیم نہ تھی کہ جو ہمیشہ کے لئے قائم رہ سکتی کیونکہ حقیقی مرکز پر اس کی بنیاد نہ تھی۔بلکہ اس قانون کی طرح جو مختص المقام ہوتا ہے صرف سرکش یہودیوں کی اصلاح کے لئے ایک خاص مصلحت تھی اور صرف چند روزہ انتظام تھا اور مسیح کو خوب معلوم تھا کہ خدا جلد تر اس عارضی تعلیم کو نیست و نابود کر کے اس کامل کتاب کو دنیا کی تعلیم کے لئے بھیجے گا کہ جو حقیقی نیکی کی طرف تمام دنیا کو بلائے گی اور بندگان خدا پر حق اور حکمت کا دروازہ کھول دے گی۔اس لئے اس کو کہنا پڑا کہ ابھی بہت سی باتیں قابل تعلیم باقی ہیں جن کی تم ہنوز برداشت نہیں کر سکتے۔مگر میرے بعد ایک دوسرا آنے والا ہے وہ سب باتیں کھول دے گا اور علم دین کو بمرتبہ کمال پہنچائے گا۔سو حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے اور ایک عرصہ تک وہی ناقص کتاب لوگوں کے ہاتھ میں رہی۔اور پھر اسی نبی معصوم کی پیشین گوئی کے بموجب قرآن شریف کو خدا نے نازل کیا اور ایسی جامع شریعت عطا فرمائی جس میں نہ توریت کی طرح خواہ نخواہ ہر جگہ اور ہر محل میں دانت کے عوض دانت نکالنا ضروری لکھا اور نہ انجیل کی طرح یہ حکم دیا کہ ہمیشہ اور ہر حالت میں دست دراز لوگوں کے طمانچے کھانے چاہیے بلکہ وہ کامل کلام عارضی خیالات سے ہٹا کر حقیقی نیکی کی طرف ترغیب دیتا ہے اور جس بات میں واقعی طور پر بھلائی پیدا ہو خواہ وہ بات درشت ہو خواہ نرم اسی کے کرنے کے لئے تاکید فرماتا ہے جیسا فرمایا ہے۔وَ جَزَ وَ اسَيْئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ ل (الجزو نمبر ۲۵) یعنی بدی کی پاداش میں اصول انصاف تو یہی ہے کہ بد کن آدمی اسی قدر بدی کا سزاوار ہے جس قد ر اس نے بدی کی ہے پر جو شخص عفو کر کے کوئی اصلاح کا کام بجالائے یعنی ایسا عفو نہ ہو جس کا نتیجہ کوئی خرابی ہو سو اس کا اجر خدا پر ہے۔(براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۰۹ تا ۴۳۴ حاشیه در حاشیه نمبر۳) دوسرا خلق اخلاق ایصال خیر میں سے عدل ہے اور تیسرا احسان اور چوتھا ایتاء ذی القربی جیسا کہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے:۔اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَايْتَائِ ذِي الْقُرْبى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْي ے یعنی اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ نیکی کے الشورى: النحل: ٩١