حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 88
۸۸ دکھلائی جاتی ہیں اور سوانگ نکالے جاتے ہیں اور ایسی افترائی تہمتیں تھیٹر کے ذریعہ سے پھیلائی جاتی ہیں جن میں اسلام اور نبی پاک کی عزت کو خاک میں ملا دینے کے لئے پوری حرم زدگی خرچ کی گئی ہے۔اب اے مسلمانوسنو! اور غور سے سنو! کہ اسلام کی پاک تا شیروں کے روکنے کے لئے جس قدر پیچیدہ افترا اس عیسائی قوم میں استعمال کئے گئے اور پُر مکر حیلے کام میں لائے گئے اور اُن کے پھیلانے میں جان تو ڑ کر اور مال کو پانی کی طرح بہا کر کوششیں کی گئیں یہاں تک کہ نہایت شرمناک ذریعے بھی جن کی تصریح سے اس مضمون کو منزہ رکھنا بہتر ہے اسی راہ میں ختم کئے گئے۔یہ کر سچن قوموں اور تثلیث کے حامیوں کی جانب سے وہ ساحرانہ کارروائیاں ہیں کہ جب تک اُن کے اس سحر کے مقابل پر خدا تعالیٰ وہ پُر زور ہاتھ نہ دکھا دے جو معجزہ کی قدرت اپنے اندر رکھتا ہو اور اس معجزہ سے اس طلسم سحر کو پاش پاش نہ کرے تب تک اس جادوئے فرنگ سے سادہ لوح دلوں کو مخلصی حاصل ہونا بالکل قیاس اور گمان سے باہر ہے۔سوخدا تعالیٰ نے اس جادو کے باطل کرنے کے لئے اس زمانہ کے سچے مسلمانوں کو یہ معجزہ دیا کہ اپنے اس بندہ کو اپنے الہام اور کلام اور اپنی برکات خاصہ سے مشرف کر کے اور اپنی راہ کے باریک علوم سے بہرہ کامل بخش کر مخالفین کے مقابل پر بھیجا اور بہت سے آسمانی تحائف اور علوی عجائبات اور روحانی معارف و دقائق ساتھ دیئے تا اس آسمانی پتھر کے ذریعہ سے وہ موم کا بت توڑ دیا جائے جو سحر فرنگ نے طیار کیا ہے۔سواے مسلمانوں! اِس عاجز کا ظہور ساحرانہ تاریکیوں کے اٹھانے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک معجزہ ہے۔کیا ضرور نہیں تھا کہ سحر کے مقابل پر معجزہ بھی دنیا میں آتا۔کیا تمہاری نظروں میں یہ بات عجیب اور ان ہونی ہے کہ خدا تعالیٰ نہایت درجہ کے مکروں کے مقابلہ پر جو سحر کی حقیقت تک پہنچ گئے ہیں ایک ایسی حقانی چمکار دکھاوے جو معجزہ کا اثر رکھتی ہو۔( فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳ تا ۶) اس جگہ میں بعض ان لوگوں کا وسوسہ بھی دُور کرنا چاہتا ہوں جو ذی مقدرت لوگ ہیں اور اپنے تئیں بڑا فیاض اور دین کی راہ میں فدا شدہ خیال کرتے ہیں لیکن اپنے مالوں کو محل پر خرچ کرنے سے بکلی منحرف ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ہم کسی صادق مؤید من اللہ کا زمانہ پاتے جو دین کی تائید کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوتا تو ہم اُس کی نصرت کی راہ میں ایسے جھکتے کہ قربان ہی ہو جاتے۔مگر کیا کریں ہر طرف فریب اور مکر کا بازار گرم ہے۔مگر اے لوگو! تم پر واضح ہے کہ دین کی تائید کے لئے ایک شخص بھیجا گیا لیکن تم نے اسے شناخت نہیں کیا وہ تمہارے درمیان ہے اور یہی ہے جو بول رہا ہے پر تمہاری