حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 89
۸۹ آنکھوں پر بھاری پردے ہیں۔اگر تمہارے دل سچائی سے طلب گار ہوں تو جو شخص خدا تعالیٰ کے ہمکلام ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس کا آزمانا بہت سہل ہے۔اُس کی خدمت میں آؤ اس کی صحبت میں دو تین ہفتے رہو تا اگر خدا تعالیٰ چاہے تو اُن برکات کی بارشیں جو اُس پر ہو رہی ہیں اور وہ حقانی وحی کے انوار جواس پر اتر رہے ہیں اُن میں سے تم بچشم خود دیکھ لو۔جو ڈھونڈتا ہے وہی پاتا ہے جو کھٹکھٹاتا ہے اسی کے لئے کھولا جاتا ہے۔اگر تم آنکھیں بند کر کے اور اندھیری کوٹھری میں چُھپ کر یہ کہو کہ آفتاب کہاں ہے تو یہ تمہاری عبث شکایت ہے۔اے نادان ! اپنی کوٹھری کے کواڑ کھول اور اپنی آنکھوں پر سے پردہ اُٹھا تا تجھے آفتاب نہ صرف نظر آوے بلکہ اپنی روشنی سے تجھے منور بھی کرے۔بعض کہتے ہیں کہ انجمنیں قائم کرنا اور مدارس کھولنا ہی تائید دین کے لئے کافی ہے مگر وہ نہیں سمجھتے کہ دین کس چیز کا نام ہے اور اس ہماری ہستی کی انتہائی اغراض کیا ہیں اور کیونکر اور رکن راہوں سے وہ اغراض حاصل ہو سکتے ہیں۔سو انہیں جاننا چاہئے کہ انتہائی غرض اس زندگی کی خدا تعالیٰ سے وہ سچا اور یقینی پیوند حاصل کرنا ہے جو تعلقات نفسانیہ سے چھڑا کر نجات کے سرچشمہ تک پہنچاتا ہے سو اس یقین کامل کی را ہیں انسانی بناوٹوں اور تدبیروں سے ہرگز کھل نہیں سکتیں۔اور انسانوں کا گھڑا ہوا فلسفہ اس جگہ کچھ فائدہ نہیں پہنچاتا بلکہ یہ روشنی ہمیشہ خدا تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے ذریعہ سے ظلمت کے وقت میں آسمان سے نازل کرتا ہے اور جو آسمان سے اتر اوہی آسمان کی طرف لے جاتا ہے۔سواے وے لوگو! جو ظلمت کے گڑھے میں دبے ہوئے اور شکوک و شبہات کے نتیجہ میں اسیر اور نفسانی جذبات کے غلام ہو صرف اسمی اور رسمی اسلام پر نازمت کرو اور اپنی کچی رفاہیت اور اپنی حقیقی بہبودی اور اپنی آخری کامیابی انہی تدبیروں میں نہ سمجھو جو حال کی انجمنوں اور مدارس کے ذریعہ سے کی جاتی ہیں۔یہ اشغال بنیا دی طور پر فائدہ بخش تو ہیں اور ترقیات کا پہلا زینہ متصور ہو سکتے ہیں مگر اصل مدعا سے بہت دُور ہیں۔شاید ان تدبیروں سے دماغی چالاکیاں پیدا ہوں یا طبیعت میں پرفتنی اور ذہن میں تیزی اور خشک منطق کی مشق حاصل ہو جائے یا عالمیت اور فاضلیت کا خطاب حاصل کر لیا جائے اور شاید مدت دراز کی تحصیل علمی کے بعد اصل مقصود کے کچھ مد بھی ہو سکیں مگر تا تریاق از عراق آورده شود مارگزیده مرده شود۔سو جاگو اور ہوشیار ہو جاؤ ایسا نہ ہو کہ ٹھوکر کھاؤ۔مبادا سفر آخرت ایسی صورت میں پیش آوے جو درحقیقت الحاد اور بے ایمانی کی صورت ہو۔یقیناً سمجھو کہ فلاح عاقبت کی امیدوں کا تمام مدار و انحصاران رسمی علوم کی تحصیل پر ہرگز نہیں ہوسکتا اور اس آسمانی نور کے اترنے کی ضرورت ہے جو شکوک و شبہات کی آلائشوں