حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 86
۸۶ اس زمانہ کا حصن حصین میں ہوں“ اے ناظرین ! فَاكُمُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالدِّينِ آج یہ عاجز ایک مدت مدید کے بعد اس الہی کارخانہ کے بارے میں جو خدا تعالیٰ نے دین اسلام کی حمایت کے لئے میرے سپرد کیا ہے ایک ضروری مضمون کی طرف آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہے۔اور میں اس مضمون میں جہاں تک خدا تعالیٰ نے اپنی طرف سے مجھے تقریر کرنے کا مادہ بخشا ہے اس سلسلہ کی عظمت اور اس کارخانہ کی نصرت کی ضرورت آپ صاحبوں پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں تا وہ حق تبلیغ جو مجھ پر واجب ہے اُس سے میں سبکدوش ہو جاؤں۔پس اس مضمون کے بیان کرنے میں مجھے اس سے کچھ غرض نہیں کہ اس تحریر کا دلوں پر کیا اثر پڑے گا۔صرف غرض یہ ہے کہ جو بات مجھ پر فرض ہے اور جو پیغام پہنچانا میرے پر قرضہ لازمہ کی طرح ہے وہ جیسا کہ چاہئے مجھ سے ادا ہو جائے خواہ لوگ اس کو بسمع رضائنیں اور خواہ کراہت اور قبض کی نظر سے دیکھیں اور خواہ میری نسبت نیک گمان رکھیں اور یا بدنی کو اپنے دلوں میں جگہ دیں۔وَ أُفَوِّضُ أَمْرِى إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ اب میں ذیل میں وہ مضمون جس کا اوپر وعدہ دیا ہے لکھتا ہوں۔اے حق کے طالبو اور اسلام کے نیچے محبو ! آپ لوگوں پر واضح ہے کہ یہ زمانہ جس میں ہم لوگ زندگی بسر کر رہے ہیں یہ ایک ایسا تاریک زمانہ ہے کہ کیا ایمانی اور کیا عملی جس قدرا مور ہیں سب میں سخت فساد واقع ہو گیا ہے اور ایک تیز آندھی ضلالت اور گمراہی کی ہر طرف سے چل رہی ہے۔وہ چیز جس کو ایمان کہتے ہیں اس کی جگہ چند لفظوں نے لے لی ہے جن کا محض زبان سے اقرار کیا جاتا ہے اور وہ امور جن کا نام اعمالِ صالحہ ہے اُن کا مصداق چند رسوم یا اسراف اور ریا کاری کے کام سمجھے گئے ہیں اور جو حقیقی نیکی ے اللہ تعالیٰ تم کو دنیا اور آخرت میں خیریت سے رکھے۔سے میں اپنا معاملہ اللہ کے سپر د کرتا ہوں اللہ اپنے بندوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔