حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 79

۷۹ کے نام پر یہ عاجز بھیجا گیا۔تاصلیبی اعتقاد کو پاش پاش کر دیا جائے۔سو میں صلیب کے توڑنے اور خنزیروں کے قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔میں آسمان سے اترا ہوں اُن پاک فرشتوں کے ساتھ جو میرے دائیں بائیں تھے جن کو میرا خدا جو میرے ساتھ ہے میرے کام کے پورا کرنے کے لئے ہر ایک مستعد دل میں داخل کرے گا بلکہ کر رہا ہے اور اگر میں چُپ بھی رہوں اور میری قلم لکھنے سے رُکی بھی رہے تب بھی وہ فرشتے جو میرے ساتھ اُترے ہیں اپنا کام بند نہیں کر سکتے اور اُن کے ہاتھ میں بڑی بڑی گرزیں ہیں جو صلیب توڑنے اور مخلوق پرستی کے ہیکل کچلنے کے لئے دیئے گئے ہیں۔فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ احاشیہ) اس زمانہ کے عیسائیوں پر گواہی دینے کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ تا میں لوگوں پر ظاہر کروں کہ ابن مریم کو خدا ٹھہرانا ایک باطل اور کفر کی راہ ہے اور مجھے اس نے اپنے مکالمات اور مخاطبات سے مشرف فرمایا ہے اور مجھے اس نے بہت سے نشانوں کے ساتھ بھیجا ہے اور میری تائید میں اُس نے بہت سے خوارق ظاہر فرمائے ہیں۔اور درحقیقت اس کے فضل وکرم سے ہماری مجلس خدا نما مجلس ہے جو شخص اس مجلس میں صحت نیت اور پاک ارادہ اور مستقیم جستجو سے ایک مدت تک رہے تو میں یقین کرتا ہوں کہ اگر وہ دہر یہ بھی ہو تو آخر خدا تعالیٰ پر ایمان لاوے گا اور ایک عیسائی جس کو خدا تعالیٰ کا خوف ہو اور جو بچے خدا کی تلاش کی بھوکھ اور پیاس رکھتا ہو اس کو لازم ہے کہ بے ہودہ قصے اور کہانیاں ہاتھ سے پھینک دے اور چشم دید ثبوتوں کا طالب بن کر ایک مدت تک میری صحبت میں رہے پھر دیکھے کہ وہ خدا جو زمین اور آسمان کا مالک ہے کس طرح اپنے آسمانی نشان اُس پر ظاہر کرتا ہے۔مگر افسوس کہ ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں جو در حقیقت خدا کو ڈھونڈنے والے اور اس تک پہونچنے کے لئے دن رات سرگرداں ہیں۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۵۵) چونکہ میں تثلیث کی خرابیوں کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہوں اس لئے یہ درد ناک نظارہ کہ ایسے لوگ دنیا میں چالیس کروڑ سے بھی کچھ زیادہ پائے جاتے ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا سمجھ رکھا ہے میرے دل پر اس قدر صدمہ پہونچاتا رہا ہے کہ میں گمان نہیں کر سکتا کہ مجھ پر میری تمام زندگی میں اس سے بڑھ کر کوئی غم گذرا ہو بلکہ اگر ہم و غم سے مرنا میرے لئے ممکن ہوتا تو یہ غم مجھے ہلاک کر دیتا کہ کیوں یہ لوگ خدائے واحد لاشریک کو چھوڑ کر ایک عاجز انسان کی پرستش کر رہے ہیں۔اور کیوں یہ