حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 680
۶۸۰ ہے اور وہی ایک ذات ہے جو تمام عالموں کی رب اور تمام رحمتوں کا چشمہ اور سب کو ان کے عملوں کا بدلہ دینے والی ہے پس ان صفات کے بیان کرنے سے اللہ تعالیٰ نے بخوبی ظاہر فرما دیا کہ سب قدرت اُسی کے ہاتھ میں ہے اور ہر یک فیض اسی کی طرف سے ہے اور اپنی اس قدر عظمت بیان کی کہ دنیا اور آخرت کے کاموں کا قاضی الحاجات اور ہر یک چیز کا علت العلل اور ہر یک فیض کا مبدء اپنی ذات کو ٹھہرایا جس میں یہ بھی اشارہ فرما دیا ہے کہ اس کی ذات کے بغیر اور اُس کی رحمت کے بدوں کسی زندہ کی زندگی اور آرام اور راحت ممکن نہیں۔اور پھر بندہ کو تذلل کی تعلیم دی اور فرمایا اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔اس کے یہ معنے ہیں کہ اے مبدء تمام فیوض ہم تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔یعنی ہم عاجز ہیں آپ سے کچھ بھی نہیں کر سکتے جب تک تیری توفیق اور تائید شامل حال نہ ہو۔پس خدائے تعالیٰ نے دُعا میں جوش دلانے کے لئے دو محرک بیان فرمائے۔ایک اپنی عظمت اور رحمت شاملہ۔دوسرے بندوں کا عاجز اور ذلیل ہونا۔اب جاننا چاہیے کہ یہی دو محرک ہیں جن کا دعا کے وقت خیال میں لانا دعا کرنے والوں کے لئے نہایت ضروری ہے۔جو لوگ دعا کی کیفیت سے کسی قدر چاشنی حاصل رکھتے ہیں انہیں خوب معلوم ہے کہ بغیر پیش ہونے ان دونوں محرکوں کے دُعا ہو ہی نہیں سکتی اور بجز ان کے آتش شوق الہی دُعا میں اپنے شعلوں کو بلند نہیں کرتے۔یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ جو شخص خدا کی عظمت اور رحمت اور قدرت کاملہ کو یاد نہیں رکھتا وہ کسی طرح سے خدا کی طرف رجوع نہیں کرسکتا اور جو شخص اپنی عاجزی اور درماندگی اور مسکینی کا اقراری نہیں اُس کی روح اس مولیٰ کریم کی طرف ہرگز جھک نہیں سکتی۔غرض یہ ایسی صداقت ہے جس کے سمجھنے کے لئے کوئی عمیق فلسفہ درکار نہیں بلکہ جب خدا کی عظمت اور اپنی ذلت اور عاجزی متحقق طور پر دل میں متنقش ہو تو وہ حالت خاصہ خود انسان کو سمجھا دیتی ہے کہ خالص دعا کرنے کا وہی ذریعہ ہے۔بچے پرستار خوب سمجھنے ہیں کہ حقیقت میں انہی دو چیزوں کا تصور دعا کے لئے ضروری ہے۔یعنی اول اس بات کا تصور کہ خدائے تعالیٰ ہر یک قسم کی ربوبیت اور پرورش اور رحمت اور بدلہ دینے پر قادر ہے اور اس کی یہ صفات کا ملہ ہمیشہ اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں۔دوسرے اس بات کا تصور کہ انسان بغیر تو فیق اور تائید الہی کے کسی چیز کو حاصل نہیں کرسکتا۔اور بلاشبہ یہ دونوں تصور ایسے ہیں کہ جب دُعا کرنے کے وقت دل میں جم جاتے ہیں تو یکا یک انسان کی حالت کو ایسا تبدیل کر دیتے ہیں کہ ایک متکبر اُن سے متاثر ہو کر روتا ہوا زمین پر گر پڑتا ہے۔اور ایک گردن کش، سخت دل کے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔یہی کل ہے جس سے ایک غافل مُردہ میں جان پڑ جاتی ہے انہی