حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 676
موجب ہے۔دعاؤں میں استقلال اور صبر ایک الگ چیز ہے اور اڑ کر مانگنا اور بات ہے۔یہ کہنا کہ میرا فلاں کام اگر نہ ہوا تو میں انکار کر دوں گا یا یہ کہہ دوں گا یہ بڑی نادانی اور شرک ہے اور آداب الدعا سے ناواقفیت ہے ایسے لوگ دعا کی فلاسفی سے ناواقف ہیں۔قرآن شریف میں یہ کہیں نہیں لکھا ہے کہ ہر ایک دعا تمہاری مرضی کے موافق میں قبول کروں گا۔بے شک یہ ہم مانتے ہیں کہ قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ لے لیکن ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ اسی قرآن شریف میں یہ بھی لکھا ہوا ہے۔وَلَنَبْلُوَنَّكُمُ بِشَيْ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ " - الآية ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ میں اگر تمہاری مانتا ہے تو لَنَبْلُوَنَّكُمْ میں اپنی منوانی چاہتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا احسان اور اس کا کرم ہے کہ وہ اپنے بندہ کی بھی مان لیتا ہے ورنہ اس کی الوہیت اور ربوبیت کی شان کے یہ ہرگز خلاف نہیں کہ اپنی ہی منوائے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْ مِنَ الخوف جو فرمایا تو اس مقام پر وہ اپنی منوانا چاہتا ہے۔کبھی کسی قسم کا خوف آتا ہے اور کبھی بھوک آتی ہے اور کبھی مالوں پر کمی واقع ہوتی ہے۔تجارتوں میں خسارہ ہوتا ہے۔اور کبھی ثمرات میں کمی ہوتی ہے۔اولا د ضائع ہوتی ہے اور ثمرات برباد ہو جاتے ہیں اور نتائج نقصان دہ ہوتے ہیں۔ایسی صورتوں میں خدا تعالیٰ کی آزمائش ہوتی ہے۔اُس وقت خدا اپنی شانِ حکومت دکھانا چاہتا ہے اور اپنی منوانا چاہتا ہے۔اُس وقت صادق اور مومن کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ نہایت اخلاص اور انشراح صدر کے ساتھ خدا کی رضا کو مقدم کر لیتا ہے اور اُس پر خوش ہو جاتا ہے کوئی شکوہ اور بدظنی نہیں کرتا۔اس لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ کے پس صبر کرنے والوں کو بشارت دو۔یہ نہیں فرمایا کہ دعا کرنے والوں کو بشارت دو بلکہ صبر کرنے والوں کو۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ انسان اگر بظاہر اپنی دعاؤں میں نا کامی دیکھے تو گھبرا نہ جاوے بلکہ صبر اور استقلال سے خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم کرے۔اہل اللہ کو نظر آ جاتا ہے کہ یہ کام ہونہار ہے۔پس جب وہ یہ دیکھتے ہیں تو دعا کرتے ہیں ورنہ قضاء وقد ر پر راضی رہتے ہیں۔اہل اللہ کے دو ہی کام ہوتے ہیں۔جب کسی بلا کے آثار دیکھتے ہیں تو دُعا کرتے ہیں لیکن جب دیکھتے ہیں کہ قضاء وقد راس طرح پر ہے تو صبر کرتے ہیں جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچوں کی وفات پر صبر کیا۔جن میں سے ایک بچہ ابراہیم بھی تھا۔( ملفوظات جلد دوم صفحه ۲۹۶، ۲۹۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) میرا صد ہا مرتبہ کا تجربہ ہے کہ خدا ایسا کریم و رحیم ہے کہ جب اپنی مصلحت سے ایک دعا کو منظور نہیں المؤمن : ٦١ ۳۲ البقرة : ۱۵۶