حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 675 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 675

۶۷۵ جس قدر اضطرار اور اضطراب بڑھتا جاوے گا اُسی قدر روح میں گدازش ہوتی جائے گی اور یہ دعا کی قبولیت کے اسباب میں سے ہیں۔پس کبھی گھبرانا نہیں چاہئے اور بے صبری اور بے قراری سے اپنے اللہ پر بدظن نہیں ہونا چاہئے یہ کبھی بھی خیال کرنا نہ چاہئے کہ میری دعا قبول نہ ہوگی یا نہیں ہوتی۔ایسا وہم اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے انکار ہو جاتا ہے کہ وہ دعائیں قبول فرمانے والا ہے۔الحکم، مورخه ۲۴ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۱ ۲۔ملفوظات جلد دوم صفحه ۷۰۸،۷۰۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) دعا ئیں حقیقت میں بہت قابل قدر ہوتی ہیں اور دعاؤں والا آخر کار کامیاب ہو جاتا ہے۔ہاں یہ نادانی اور سوء ادب ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے ارادہ کے ساتھ لڑنا چاہے مثلاً یہ دعا کرے کہ رات کے پہلے حصہ میں سورج نکل آوے۔اس قسم کی دعا ئیں گستاخی میں داخل ہوتی ہیں۔وہ شخص نقصان اٹھاتا ہے اور ناکام رہتا ہے جو گھبرانے والا اور قبل از وقت چاہنے والا ہو مثلاً اگر بیاہ کے دس دن بعد مرد و عورت یہ خواہش کریں کہ اب بچہ پیدا ہو جاوے تو یہ کیسی حماقت ہو گی۔اس وقت تو اسقاط کے خون اور چھیچھڑوں سے بھی بے نصیب رہے گی۔اسی طرح جو سبزہ کو نمونہیں دیتا وہ دانہ پڑنے کی نوبت ہی آنے نہیں دیتا۔۔۔۔مسلمان دعا سے بالکل ناواقف ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ جن کو بدقسمتی سے ایسا موقعہ ملا کہ دعا کریں مگر انہوں نے صبر اور استقلال سے چونکہ کام نہ لیا اس لئے نامراد رہ کر سید احمد خانی مذہب اختیار کر لیا کہ دعا کوئی چیز نہیں۔یہ دھوکا اور غلطی اسی لئے لگتی ہے کہ وہ لوگ حقیقت دعا سے ناواقف محض ہوتے ہیں اور اس کے اثر سے بے خبر اور اپنی خیالی امیدوں کو پورا نہ ہوتے دیکھ کر کہہ اُٹھتے ہیں کہ دعا کوئی چیز نہیں اور اس سے برگشتہ ہو جاتے ہیں۔دعار بوبیت اور عبودیت کا ایک کامل رشتہ ہے۔اگر دُعاؤں کا اثر نہ ہوتا تو پھر اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔الحکم مورخہ ۱۷ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۳ کالم نمبر۔ملفوظات جلد دوم صفحه ۵۰،۱۴۹ جدید ایڈیشن) پس دعاؤں سے کام لینا چاہئے اور خدا تعالیٰ کے حضور استغفار کرنا چاہئے کیونکہ خدا تعالیٰ غنی بے نیاز ہے اس پر کسی کی حکومت نہیں ہے۔ایک شخص اگر عاجزی اور فروتنی سے اس کے حضور نہیں آتا وہ اس کی کیا پرواہ کر سکتا ہے۔دیکھو اگر ایک سائل کسی کے پاس آ جاوے اور اپنا بجز اور غربت ظاہر کرے تو ضرور ہے کہ اُس کے ساتھ کچھ نہ کچھ سلوک ہو لیکن ایک شخص جو گھوڑی پر سوار ہو کر آوے اور سوال کرے اور یہ بھی کہے کہ اگر نہ دو گے تو ڈنڈے ماروں گا تو بجز اس کے کہ خود اس کو ڈنڈے پڑیں اور اس کے ساتھ کیا سلوک ہوگا ؟ خدا تعالیٰ سے اڑ کر مانگتا ہے اور اپنے ایمان کو مشروط کرنا بڑی بھاری غلطی اور ٹھوکر کا