حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 674 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 674

۶۷۴ دیکھو ایک بچہ کو انسان بننے کے لئے کس قدر مر حلے اور منازل طے کرنے پڑتے ہیں۔ایک پیج کا درخت بننے کے لئے کس قدر توقف ہوتا ہے۔اسی طرح پر اللہ تعالیٰ کے امور کا نفاذ بھی تدریجاً ہوتا ہے۔دوسرے اس توقف میں یہ مصلحت الہی ہوتی ہے کہ انسان اپنے عزم اور عقد ہمت میں پختہ ہو جاوے اور معرفت میں استحکام اور رسوخ ہو۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس قدر انسان اعلیٰ مراتب اور مدارج کو حاصل کرنا چاہتا ہے اسی قدر اس کو زیادہ محنت اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔پس استقلال اور ہمت ایک ایسی عمدہ چیز ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو انسان کامیابی کی منزلوں کو طے نہیں کر سکتا۔اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ پہلے مشکلات میں ڈالا جاوے۔اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا۔اس لئے فرمایا ہے۔الحکم مورخہ ۷ اردسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۲ کالم نمبر۳۔ملفوظات جلد دوم صفحہ ۱۴۹ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان ایک امر کے لئے دعا کرتا ہے مگر وہ دعا اس کی اپنی نا واقعی اور نادانی کا نتیجہ ہوتی ہے۔یعنی ایسا امر خدا سے چاہتا ہے جو اس کے لئے کسی صورت سے مفید اور نافع نہیں ہے۔تو اللہ تعالیٰ اُس کی دعا کو تو رو نہیں کرتا لیکن کسی اور صورت میں پورا کر دیتا ہے مثلاً ایک زمیندار جس کو ہل چلانے کے لئے بیل کی ضرورت ہے وہ بادشاہ سے جا کر ایک اونٹ کا سوال کرے اور بادشاہ جانتا ہے کہ اس کو دراصل بیل دینا مفید ہو گا اور وہ حکم دے دے کہ اس کو ایک بیل دے دو۔وہ زمین دار اپنی بیوقوفی سے یہ کہہ دے کہ میری درخواست منظور نہیں ہوئی تو اُس کی حماقت اور نادانی ہے لیکن اگر وہ غور کرے تو اس کے لئے یہی بہتر تھا۔اس طرح پر اگر ایک بچہ آگ کے سُرخ انگارے دیکھ کر ماں سے مانگے تو کیا مہربان اور شفیق ماں یہ پسند کرے گی کہ اُس کو آگ کے انگارے دیدے؟ غرض بعض اوقات دعا کی قبولیت کے متعلق ایسے امور بھی پیش آتے ہیں۔جولوگ بے صبری اور بدظنی سے کام لیتے ہیں وہ اپنی دعا کورڈ کرا لیتے ہیں۔الحکم مورخہ ۲۴ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۲ کالم نمبر۔ملفوظات جلد دوم صفحہ ۷۰۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) دعا اور اس کی قبولیت کے زمانہ کے درمیانی اوقات میں بسا اوقات ابتلا پر ابتلا آتے ہیں اور ایسے ایسے ابتلا بھی آجاتے ہیں جو کمر توڑ دیتے ہیں۔مگر مستقل مزاج سعید الفطرت ان ابتلاؤں اور مشکلات میں بھی اپنے رب کی عنایتوں کی خوشبو سونگھتا ہے اور فراست کی نظر سے دیکھتا ہے کہ اس کے بعد نصرت آتی ہے۔ان ابتلاؤں کے آنے میں ایک سر یہ بھی ہوتا ہے کہ دُعا کے لئے جوش بڑھتا ہے کیونکہ جس الم نشرح :