حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 673 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 673

۶۷۳ - محبت رکھتے ہیں محبوبانِ الہی میں داخل ہوتے ہیں تب ہر ایک چیز جو خدا تعالیٰ کے زیر حکم ہے اُن کی مدد کے لئے جوش مارتی ہے اور رحمت الہی محض اُن کی مراد پوری کرنے کے لئے ایک خلق جدید کے لئے تیار ہو جاتی ہے اور وہ امور ظاہر ہوتے ہیں جو اہل دنیا کی نظر میں غیر ممکن معلوم ہوتے ہیں اور جن سے سفلی علوم محض نا آشنا ہیں۔ایسے لوگوں کو خدا تو نہیں کہہ سکتے مگر قرب اور علاقہ محبت ان کا کچھ ایسا صدق وصفا کے ساتھ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہوتا ہے گویا خدا اُن میں اتر آتا ہے اور آدم کی طرح خدائی روح اُن میں پھونکی جاتی ہے مگر یہ نہیں کہ وہ خدا ہیں لیکن درمیان میں کچھ ایسا تعلق ہے جیسا کہ لوہے کو جبکہ سخت طور پر آگ سے افروختہ ہو جائے اور آگ کا رنگ اس میں پیدا ہو جائے آگ سے تعلق ہوتا ہے۔اس صورت میں تمام چیزیں جو خدا تعالیٰ کے زیر حکم ہیں ان کے زیر حکم ہو جاتی ہیں اور آسمان کے ستارے اور سورج اور چاند سے لے کر زمین کے سمندروں اور ہوا اور آگ تک اُن کی آواز کو سنتے اور اُن کو شناخت کرتے اور ان کی خدمت میں لگے رہتے ہیں اور ہر ایک چیز طبعاً اُن سے پیار کرتی ہے اور عاشق صادق کی طرح ان کی طرف کھینچی جاتی ہے بجز شریر انسانوں کے جو شیطان کا اوتار ہیں۔عشق مجازی تو ایک منحوس عشق ہے کہ ایک طرف پیدا ہوتا اور ایک طرف مرجاتا ہے اور نیز اس کی بنا ء اس حسن پر ہے جو قابل زوال ہے اور نیز اس حسن کے اثر کے نیچے آنے والے بہت ہی کم ہوتے ہیں مگر یہ کیا حیرت انگیز نظارہ ہے کہ وہ حسنِ رُوحانی جوحسن معاملہ اور صدق وصفا اور محبت الہیہ کی تجلی کے بعد انسان میں پیدا ہوتا ہے۔اس میں ایک عالمگیر کشش پائی جاتی ہے وہ مستعد دلوں کو اس طرح اپنی طرف کھینچ لیتا ہے جیسے شہر چیونٹیوں کو اور نہ صرف انسان بلکہ عالم کا ذرہ ذرہ اس کی کشش سے متاثر ہوتا صادق المحبت انسان جو کچی محبت خدا تعالیٰ سے رکھتا ہے وہ وہ یوسف ہے جس کے لئے ذرہ ذرہ اس عالم کا زلیخا صفت ہے اور ابھی حسن اس کا اس عالم میں ظاہر نہیں کیونکہ یہ عالم اس کی برداشت نہیں کرتا۔خدا تعالیٰ اپنی پاک کتاب میں جو فرقان مجید ہے فرماتا ہے کہ مومنوں کا نور اُن کے چہروں پر دوڑتا ہے اور مومن اس حسن سے شناخت کیا جاتا ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں نور ہے۔ہے۔( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۲۱ تا ۲۲۴) کبھی ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ ایک طالب نہایت رقت اور درد کے ساتھ دعائیں کرتا ہے مگر وہ دیکھتا ہے کہ ان دعاؤں کے نتائج میں ایک تاخیر اور توقف واقع ہوتا ہے اس کا سر کیا ہے؟ اس میں یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اوّل تو جس قدرا مور دنیا میں ہوتے ہیں اُن میں ایک قسم کی تدریج پائی جاتی ہے۔