حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 663
۶۶۳ پایہ کی ہوتی ہیں جن کا قبول ہونا ایک امر عجیب اور خارق عادت متصور ہو سکے لیکن جو دعائیں اصطفاء کی وجہ سے قبول ہوتی ہیں اُن میں یہ نشان نمایاں ہوتے ہیں۔(۱)۔اول یہ کہ دعا کرنے والا ایک متقی اور راستباز اور کامل فرد ہوتا ہے۔(۲)۔دوسرے یہ کہ بذریعہ مکالمات الہیہ اس دعا کی قبولیت سے اُس کو اطلاع دی جاتی ہے۔(۳)۔تیسری یہ کہ اکثر وہ دعائیں جو قبول کی جاتی ہیں نہایت اعلیٰ درجہ کی اور پیچیدہ کاموں کے متعلق ہوتی ہیں جن کی قبولیت سے کھل جاتا ہے کہ یہ انسان کا کام اور تدبیر نہیں بلکہ خدائے تعالیٰ کا ایک خاص نمونہ قدرت ہے جو خاص بندوں پر ظاہر ہوتا ہے۔(۴)۔چوتھی یہ کہ ابتلائی دعا ئیں تو کبھی کبھی شاذ و نادر کے طور پر قبول ہوتی ہیں لیکن اصطفائی دعائیں کثرت سے قبول ہوتی ہیں۔بسا اوقات صاحب اصطفائی دعا کا ایسی بڑی بڑی مشکلات میں پھنس جاتا ہے اگر اور شخص اُن میں مبتلا ہو جاتا تو بجز خود کشی کے اور کوئی حیلہ اپنی جان بچانے کے لئے ہرگز اُسے نظر نہ آتا۔چنانچہ ایسا ہوتا بھی ہے کہ جب کبھی دنیا پرست لوگ جو خدائے تعالیٰ سے مہجور و دور ہیں بعض بڑی بڑی هموم و عموم و امراض و استقام و بلایات لائیل میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو آخر وہ باعث ضعف ایمان خدائے تعالیٰ سے نا امید ہو کر کسی قسم کی زہر کھا لیتے ہیں یا کنوئیں میں گرتے ہیں یا بندوق وغیرہ سے خود کشی کر لیتے ہیں لیکن ایسے نازک وقتوں میں صاحب اصطفاء کا بوجہ اپنی قوت ایمانی اور تعلق خاص کے خدائے تعالی کی طرف سے نہایت عجیب در عجیب مدد دیا جاتا ہے اور عنایت الہی ایک عجیب طور سے اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے یہاں تک کہ ایک محرم راز کا دل بے اختیار بول اٹھتا ہے کہ یہ شخص مؤید الہی ہے۔(۵)۔پانچویں یہ کہ صاحب اصطفائی دعا کا مورد عنایات الہیہ کا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ اُس کے تمام کاموں میں اُس کا متوتی ہو جاتا ہے اور عشق الہی کا نور اور مقبولا نہ کبریائی کی ہستی اور روحانی لذت یابی اور تنعم کے آثار اس کے چہرہ میں نمایاں ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔- ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۷ ۴۷ تا ۴۷۹ ) غرض جبکہ ہماری رُوح ایک چیز کے طلب کرنے میں بڑی سرگرمی اور سوز و گداز کے ساتھ مبدء فیض المطففين : ۲۵ یونس : ۶۳