حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 664 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 664

۶۶۴ کی طرف ہاتھ پھیلاتی ہے اور اپنے تئیں عاجز پا کر فکر کے ذریعہ سے کسی اور جگہ سے روشنی ڈھونڈتی ہے تو در حقیقت ہماری وہ حالت بھی دعا کی ایک حالت ہوتی ہے۔اسی دُعا کے ذریعہ سے دنیا کی کل حکمتیں ظاہر ہوئی ہیں اور ہر ایک بیت العلم کی کنجی دعا ہی ہے اور کوئی علم اور معرفت کا دقیقہ نہیں جو بغیر اس کے ظہور میں آیا ہو۔ہمارا سوچنا ہمارا فکر کرنا اور ہمارا طلب امر مخفی کے لئے خیال کو دوڑانا یہ سب امور دُعا ہی میں داخل ہیں صرف فرق یہ ہے کہ عارفوں کی دُعا آداب معرفت کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے اور ان کی روح مبدء فیض کو شناخت کر کے بصیرت کے ساتھ اُس کی طرف ہاتھ پھیلاتی ہے اور مجوبوں کی دُعا صرف ایک سرگردانی ہے جو فکر اور غور اور طلب اسباب کے رنگ میں ظاہر ہوتی ہے۔وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ سے ربط معرفت نہیں اور نہ اس پر یقین ہے وہ بھی فکر اور غور کے وسیلہ سے یہی چاہتے ہیں کہ غیب سے کوئی کامیابی کی بات اُن کے دل میں پڑ جائے اور ایک عارف دعا کرنے والا بھی اپنے خدا سے یہی چاہتا ہے کہ کامیابی کی راہ اُس پر کھلے لیکن مجوب جو خدا تعالیٰ سے ربط نہیں رکھتا وہ مبدء فیض کو نہیں جانتا اور عارف کی طرح اس کی طبیعت بھی سرگردانی کے وقت ایک اور جگہ سے مدد چاہتی ہے اور اسی مدد کے پانے کے لئے وہ فکر کرتا ہے۔مگر عارف اس مبدء کو دیکھتا ہے۔اور یہ تاریکی میں چلتا ہے اور نہیں جانتا کہ جو کچھ فکر اور خوض کے بعد دل میں پڑتا ہے وہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ متفکر کے فکر کو بطور دعا قرار دے کر بطور قبول دعا اس علم کو فکر کرنے والے کے دل میں ڈالتا ہے۔غرض جو حکمت اور معرفت کا نکتہ فکر کے ذریعہ سے دل میں پڑتا ہے وہ بھی خدا سے ہی آتا ہے اور فکر کرنے والا اگر چہ نہ سمجھے مگر خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ مجھ سے ہی مانگ رہا ہے۔سو آخر وہ خدا سے اس مطلب کو پاتا ہے۔اور جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے۔یہ طریق طلب روشنی اگر علی وجہ البصیرت اور ہادی حقیقی کی شناخت کے ساتھ ہو تو یہ عارفانہ دعا ہے۔اور اگر صرف فکر اور خوض کے ذریعہ سے یہ روشنی لا معلوم مبدء سے طلب کی جائے اور منو رحقیقی کی ذات پر کامل نظر نہ ہو تو وہ مجو بانہ دعا ہے۔۔علاوہ اس کے جیسا کہ تدبیر اور دعا کا باہمی رشتہ قانون قدرت کی شہادت سے ثابت ہوتا ہے ایسا ہی صحیفہ فطرت کی گواہی سے بھی یہی ثبوت ملتا ہے۔جیسا کہ دیکھا جاتا ہے کہ انسانی طبائع کسی مصیبت کے وقت جس طرح تدبیر اور علاج کی طرف مشغول ہوتی ہیں۔ایسا ہی طبعی جوش سے دعا اور صدقہ اور خیرات کی طرف جھک جاتی ہیں۔پس یہی ایک روحانی دلیل اس بات پر ہے کہ انسان کی شریعت باطنی نے بھی قدیم سے تمام قوموں کو یہی فتویٰ دیا ہے کہ وہ دُعا کو اسباب اور تدابیر سے الگ نہ