حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 661
۶۶۱ ہے۔مرد شاید ان تکالیف اور مصائب کا اندازہ نہ کر سکیں جو اس مدت حمل کے درمیان عورت کو برداشت کرنی پڑتی ہیں مگر یہ سچی بات ہے کہ عورت کی بھی ایک نئی زندگی ہوتی ہے۔اب غور کرو کہ اولاد کے لئے پہلے ایک موت خود اس کو قبول کرنی پڑتی ہے تب کہیں جا کر اس خوشی کو دیکھتی ہے۔اسی طرح پر دعا کرنے والے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ تلون اور عجلت کو چھوڑ کر ساری تکلیفوں کو برداشت کرتا رہے۔اور کبھی بھی یہ وہم نہ کرے کہ دعا قبول نہیں ہوئی آخر آنے والا زمانہ آ جاتا ہے اور دُعا کے نتیجہ کے پیدا ہونے کا وقت پہونچ جاتا ہے۔جبکہ گویا مراد کا بچہ پیدا ہوتا ہے۔دعا کو پہلے ضروری ہے کہ اس مقام اور حد تک پہونچایا جاوے جہاں پہونچ کر وہ نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے۔جس طرح پر آتشی شیشے کے نیچے کپڑا رکھ دیتے ہیں اور سورج کی شعاعیں اس شیشہ پر آ کر جمع ہوتی ہیں اور ان کی حرارت وحدت اس مقام تک پہونچ جاتی ہے جو اس کپڑے کو جلا دے پھر یکا یک وہ کپڑا جل اُٹھتا ہے۔اسی طرح پر ضروری ہے کہ دعا اس مقام تک پہونچے جہاں اس میں وہ قوت پیدا ہو جاوے کہ نا مرا دیوں کو جلا دے اور مقصد مراد کو پورا کرنے والی ثابت ہو جاوے۔ع پیدا است ندلا را که بلند است جنابت مدت دراز تک انسان کو دعاؤں میں لگے رہنا پڑتا ہے۔آخر خدا تعالیٰ ظاہر کر دیتا ہے۔میں نے اپنے تجربہ سے دیکھا ہے اور گذشتہ راستبازوں کا تجربہ بھی اس پر شہادت دیتا ہے کہ اگر کسی معاملہ میں دیر تک خاموشی کرے تو کامیابی کی امید ہوتی ہے لیکن جس امر میں جلد جواب مل جاتا ہے وہ ہونے والا نہیں ہوتا۔عام طور پر ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ ایک سائل جب کسی کے دروازہ پر مانگنے کے لئے جاتا ہے اور نہایت عاجزی اور اضطراب سے مانگتا ہے اور کچھ دیر تک جھڑ کیاں کھا کر بھی اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا اور سوال کئے ہی جاتا ہے تو آخر اس کو بھی کچھ شرم آ ہی جاتی ہے خواہ کتنا ہی بخیل کیوں نہ ہو پھر بھی کچھ نہ کچھ سائل کو دے ہی دیتا ہے تو کیا دعا کرنے والے کو کم از کم ایک معمولی سائل جتنا بھی استقلال نہیں ہونا چاہئے اور خدا تعالیٰ جو کریم ہے اور حیا رکھتا ہے جب دیکھتا ہے کہ اس کا عاجز بندہ ایک عرصہ سے اس کے آستانہ پر گرا ہوا ہے تو کبھی اس کا انجام بد نہیں کرتا اگر انجام بد ہو تو اپنے ظن سے ہوتا ہے جیسے ایک حاملہ عورت چار پانچ ماہ کے بعد کہے کہ اب بچہ پیدا کیوں نہیں ہوتا اور اس خواہش میں کوئی مسقط دوا کھا لے تو اس وقت کیا بچہ پیدا ہو گا یا ایک مایوسی بخش حالت میں وہ خود مبتلا ہو گی ؟ اسی طرح جو شخص قبل از وقت لے آواز سے ظاہر ہے کہ تیری بارگاہ بہت بلند ہے۔