حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 658 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 658

۶۵۸ مگر جس چیز کو مانگا گیا ہے وہ عند اللہ سائل کے لئے خلاف مصلحت الہی ہوتی ہے اور اس کے پورے کرنے میں خیر نہیں ہوتی۔مثلاً اگر کسی ماں کا پیارا بچہ بہت الحاح اور رونے سے یہ چاہے کہ وہ آگ کا ٹکڑا یا سانپ کا بچہ اس کے ہاتھ میں پکڑا دے یا ایک زہر جو بظاہر خوبصورت معلوم ہوتی ہے اس کو کھلا دے تو یہ سوال اس بچہ کا ہر گز اس کی ماں پورا نہیں کرے گی اور اگر پورا کر دیوے اور اتفاقاً بچہ کی جان بچ جاوے لیکن کوئی عضو اس کا بے کار ہو جاوے تو بلوغ کے بعد وہ بچہ اپنی اس احمق والدہ کا سخت شا کی ہوگا اور بجز اس کے اور بھی کئی شرائط ہیں کہ جب تک وہ تمام جمع نہ ہوں اس وقت تک دعا کو دعا نہیں کہہ سکتے اور جب تک کسی دُعا میں پوری روحانیت داخل نہ ہو اور جس کے لئے دعا کی گئی ہے اور جو دعا کرتا ہے اُن میں استعداد قریبہ پیدا نہ ہوتب تک توقع اثر دعا امید موہوم ہے اور جب تک ارادہ الہی قبولیت دعا کے متعلق نہیں ہوتا تب تک یہ تمام شرائط جمع نہیں ہوتیں اور ہمتیں پوری توجہ سے قاصر رہتی ہیں۔سید صاحب اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ دار آخرت کی سعادتیں اور نعمتیں اور لذتیں اور راحتیں جن کی نجات سے تعبیر کی گئی ہے ایمان اور ایمانی دعاؤں کا نتیجہ ہیں۔پھر جبکہ یہ حال ہے تو سید صاحب کو ماننا پڑا کہ بلاشبہ ایک مومن کی دعائیں اپنے اندر اثر رکھتی ہیں اور آفات کے دُور ہونے اور مرادات کے حاصل ہونے کا موجب ہو جاتی ہیں کیونکہ اگر موجب نہیں ہو سکتیں تو پھر کیا وجہ کہ قیامت میں موجب ہو جائیں گی۔سوچو اور خوب سوچو کہ اگر در حقیقت دعا ایک بے تاثیر چیز ہے اور دنیا میں کسی آفت کے دور ہونے کا موجب نہیں ہو سکتی تو کیا وجہ کہ قیامت کو موجب ہو جائے گی ؟ یہ بات تو نہایت صاف ہے کہ اگر ہماری دعاؤں میں آفات سے بچنے کے لئے در حقیقت کوئی تاثیر ہے تو وہ تاثیر اس دنیا میں بھی ظاہر ہونی چاہئے تا ہمارا یقین بڑھے اور امید بڑھے اور تا آخرت کی نجات کے لئے ہم زیادہ سرگرمی سے دعائیں کریں اور اگر در حقیقت دعا کچھ چیز نہیں صرف پیشانی کا نوشتہ پیش آنا ہے تو جیسا دنیا کی آفات کے لئے بقول سید صاحب دعا عبث ہے اسی طرح آخرت کے لئے بھی عبث ہو گی اور اس پر امید رکھنا طمع خام۔بركات الدعاء۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۵ تا ۱۴) ایک بچہ جب بھوک سے بے تاب ہو کر دودھ کے لئے چلا تا اور چیختا ہے تو ماں کے پستان میں دودھ جوش مار کر آ جاتا ہے۔بچہ دعا کا نام بھی نہیں جانتا لیکن اُس کی چیخیں دودھ کو کیونکر کھینچ لاتی ہیں ؟ اس کا ہر ایک کو تجربہ ہے۔بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ مائیں دودھ کو محسوس بھی نہیں کرتیں مگر بچہ کی چلا ہٹ ہے کہ دودھ کو کھینچ لاتی ہے تو کیا ہماری چینیں جب اللہ تعالیٰ کے حضور ہوں تو وہ کچھ بھی نہیں کھینچ کر