حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 648 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 648

۶۴۸ منازل سلوک میں جن امور میں فطرت ہی سالک کی ایسی واقع ہو کہ اُس قسم کی بدی وہ کر ہی نہیں سکتا تو اس قسم کے ثواب کا بھی وہ مستحق نہیں ہو سکتا مثلاً ہم بچھو اور سانپ کی طرح اپنے وجود میں ایک ایسی زہر نہیں رکھتے جس کے ذریعہ سے ہم کسی کو اس قسم کی ایذا پہنچاسکیں جو کہ سانپ اور بچھو پہنچاتے ہیں۔سوہم اس قسم کی ترک بدی میں عند اللہ کسی ثواب کے مستحق بھی نہیں۔اب اس تحقیق سے ظاہر ہوا کہ مخالفانہ جذبات جو انسان میں پیدا ہو کر انسان کو بدی کی طرف کھینچتے ہیں درحقیقت وہی انسان کے ثواب کا بھی موجب ہیں کیونکہ جب وہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر اُن مخالفانہ جذبات کو چھوڑ دیتا ہے تو عنداللہ بلاشبہ تعریف کے لائق ٹھہر جاتا ہے اور اپنے رب کو راضی کر لیتا ہے لیکن جو شخص جو انتہائی مقام کو پہنچ گیا ہے اُس میں مخالفانہ جذبات نہیں رہتے۔گویا اُس کا جن مسلمان ہو جاتا ہے مگر ثواب باقی رہ جاتا ہے کیونکہ وہ ابتلا کے منازل کو بڑی مردانگی کے ساتھ طے کر چکا ہے جیسے ایک صالح آدمی جس نے بڑے بڑے نیک کام اپنی جوانی میں کئے ہیں اپنی پیرانہ سالی میں بھی اُن کا ثواب پاتا ہے۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۸۰ تا ۸۵ حاشیه ) اسی طرح شیطان کے وجود پر بھی بعض نا سمجھ اعتراض کرتے ہیں کہ گویا خدا نے خود لوگوں کو گمراہ کرنا چاہا۔مگر یہ بات نہیں ہے بلکہ ہر ایک دانا اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ ہر ایک انسان میں دو قو تیں ضرور پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک قوت کو عربی میں لمہ شیطان کہتے ہیں اور دوسری قوت کولمہ ملک یعنی انسانی فطرت میں یہ بات مشہور ہے کہ کبھی نامعلوم اسباب سے نیک خیال اس میں پیدا ہوتا ہے اور نیک کاموں کی طرف دل رغبت کرتا ہے۔اور پھر کبھی بدخیال اس کے دل میں اٹھتا ہے اور بدی اور بدکاری اور ظلم اور شر کی طرف اس کی طبیعت مائل ہو جاتی ہے۔پس وہ قوت جو بد خیال کا منبع ہے قرآنی تعلیم کی رو سے وہ شیطان ہے اور وہ قوت جو نیک خیال کا منبع ہے وہ فرشتہ ہے۔( مضمون جلسہ لا ہور منسلکہ چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۳۵) اگر کوئی کہے کہ جس حالت میں شیطان کو خدا تعالیٰ کی ہستی اور وحدانیت پر یقین ہے تو پھر وہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی کیوں کرتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی نافرمانی انسان کی نافرمانی کی طرح نہیں ہے بلکہ وہ اسی عادت پر انسان کی آزمائش کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اور یہ ایک راز ہے جس کی تفصیل انسان کو نہیں دی گئی۔اور انسان کی خاصیت اکثر اور اغلب طور پر یہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی نسبت علم کامل حاصل کرنے سے ہدایت پالیتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ