حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 647
۶۴۷ اور نیکی کا بھی۔بدی کے الہام کا ذریعہ شیطان ہے جو شرارتوں کے خیالات دلوں میں ڈالتا ہے۔اور نیکی کے الہام کا ذریعہ روح القدس ہے جو پاک خیالات دل میں ڈالتا ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ علت العلل۔ہے اس لئے یہ دونوں الہام خدا تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کر لئے کیوں کہ اُسی کی طرف سے یہ سارا انتظام ہے ور نہ شیطان کیا حقیقت رکھتا ہے جو کسی کے دل میں وسوسہ ڈالے اور روح القدس کیا چیز جو کسی کو تقوی کی راہوں کی ہدایت کرے۔ہمارے مخالف آریہ اور برہمو اور عیسائی اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے قرآن کریم کی تعلیم پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اس تعلیم کی رو سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے دانستہ انسان کے پیچھے شیطان کو لگا رکھا ہے۔گویا اس کو آپ ہی خلق اللہ کا گمراہ کرنا منظور ہے مگر یہ ہمارے شتاب باز مخالفوں کی غلطی ہے ان کو معلوم کرنا چاہئے کہ قرآن کریم کی یہ تعلیم نہیں ہے کہ شیطان گمراہ کرنے کے لئے جبر کر سکتا ہے اور نہ یہ تعلیم ہے کہ صرف بدی کی طرف بلانے کے لئے شیطان کو مقرر کر رکھا ہے بلکہ یہ تعلیم ہے کہ آزمائش اور امتحان کی غرض سے۔لمہ ملک اور لمہ ابلیس برابر طور پر انسان کو دیئے گئے ہیں یعنی ایک داعی خیر اور ایک داعی شر تا انسان اس ابتلاء میں پڑ کر مستحق ثواب یا عقاب کا ٹھہر سکے کیونکہ اگر اُس کے لئے ایک ہی طور کے اسباب پیدا کئے جاتے مثلاً اگر اس کے بیرونی اور اندرونی اسباب جذبات فقط نیکی کی طرف ہی اس کو کھینچتے یا اس کی فطرت ہی ایسی واقعہ ہوتی کہ وہ بجز نیکی کے کاموں کے اور کچھ کر ہی نہ سکتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ نیک کاموں کے کرنے سے اس کو کوئی مرتبہ قرب کا مل سکے کیونکہ اس کے لئے تو تمام اسباب وجذ بات نیک کام کرنے کے ہی موجود ہیں یا یہ کہ بدی کی خواہش تو ابتداء سے ہی اس کی فطرت سے مسلوب ہے تو پھر بدی سے بچنے کا اُس کو ثواب کس استحقاق سے ملے۔مثلاً ایک شخص ابتداء سے ہی نامرد ہے جو عورت کی کچھ خواہش نہیں رکھتا اب اگر وہ ایک مجلس میں یہ بیان کرے کہ میں فلاں وقت جوان عورتوں کے ایک گروہ میں رہا جو خوبصورت بھی تھیں مگر میں ایسا پر ہیز گار ہوں کہ میں نے اُن کو شہوت کی نظر سے ایک دفعہ بھی نہیں دیکھا اور خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہا تو کچھ شک نہیں کہ سب لوگ اُس کے اس بیان پر ہنسیں گے اور طنز سے کہیں گے کہ اے نادان ! کب اور کس وقت تجھ میں یہ قوت موجود تھی تا اُس کے روکنے پر تو فخر کر سکتا یا کسی ثواب کی امید رکھتا۔پس جاننا چاہئے کہ سالک کو اپنی ابتدائی اور درمیانی حالات میں تمام اُمید میں ثواب کی مخالفانہ جذبات سے پیدا ہوتی ہیں اور ان