حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 646
۶۴۶ ہوتی ہیں جو ایک بے جان اور بے ارادہ اور بے شعور چیز میں باعتبار اس کے جمادی حالت اور عنصری خاصیت کے ہو سکتے ہیں اور فرشتوں کی منصبی خدمت دراصل تقسیم اور تدبیر ہوتی ہے۔اسی لئے وہ مقسمات اور مدبرات کہلاتے ہیں اور القاء اور الہام بھی جو فرشتے کرتے ہیں۔وہ بھی بر عایت فطرت ہی ہوتا ہے۔مثلاً وہ الہام جو خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں پر وہ نازل کرتے ہیں دوسروں پر نہیں کر سکتے بلکہ اُس طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور اسی قاعدہ کے موافق ہر یک شخص اپنے اندازہ استعداد پر فرشتوں کے القاء سے فیضیاب ہوتا ہے۔اور جس فن یا علم کی طرف کسی کا روئے خیال ہے اُسی میں فرشتہ سے مدد پاتا ہے مثلاً جب اللہ جل شانہ کا ارادہ ہوتا ہے کہ کسی دوا سے کسی کو دست آویں تو طبیب کے دل میں فرشتہ ڈال دیتا ہے کہ فلاں مسہل کی دوا اس کو کھلا دو۔تب وہ تربد یا خیار شیر یا شیر خشت یا سقمونیا یا سنا یا کشٹر ائل یا کوئی اور چیز جیسے دل میں ڈالا گیا ہو اس بیمار کو بتلا دیتا ہے اور پھر فرشتوں کی تائید سے اس دوا کو طبیعت قبول کر لیتی ہے۔مئے نہیں آتی۔تب فرشتے اس دوا پر اپنا اثر ڈال کر بدن میں اس کی تاثیرات پہنچاتے ہیں اور مادہ موذیہ کا اخراج باذنہ تعالیٰ شروع ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے نہایت حکمت اور قدرت کاملہ سے سلسلہ ظاہری علوم وفنون کو بھی ضائع ہونے نہیں دیا اور اپنی خدائی کے تصرفات اور دائمی قبضہ کو بھی معطل نہیں رکھا اور اگر خدا تعالیٰ کا اس قدر دقیق در دقیق تصرف اپنی مخلوق کے عوارض اور اس کی بقاء اور فنا پر نہ ہوتا تو وہ ہرگز خدا نہ ٹھہر سکتا اور نہ تو حید درست ہو سکتی۔ہاں یہ بات درست ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس عالم میں نہیں چاہا کہ یہ تمام اسرار عام نظروں میں بدیہی ٹھہر جاویں کیونکہ اگر یہ بدیہی ہوتے تو پھر اُن پر ایمان لانے کا کچھ بھی ثواب نہ ہوتا۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۸۵ تا ۱۸۸ حاشیه ) ازاں جملہ ایک یہ سوال ہے کہ جس حالت میں رُوح القدس انسان کو بدیوں سے روکنے کے لئے مقرر ہے تو پھر اس سے گناہ کیوں سرزد ہوتا ہے اور انسان کفر اور فسق اور فجور میں کیوں مبتلا ہو جاتا ہے؟ اس کا یہ جواب ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے ابتلاء کے طور پر دو روحانی داعی مقرر کر رکھے ہیں۔ایک داعی خیر جس کا نام روح القدس ہے اور ایک داعی شتر جس کا نام ابلیس اور شیطان ہے۔یہ دونوں داعی صرف خیر یا شر کی طرف بلاتے رہتے ہیں مگر کسی بات پر جبر نہیں کرتے۔جیسا کہ اس آیت کریمہ میں اسی امر کی طرف اشارہ ہے۔فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوبهَا یعنی خدا بدی کا بھی الہام کرتا ہے الشمس: 9