حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 642
۶۴۲ امام المعصومین اور امام المتبرکین اور سید المقربین کی نسبت کیونکر خیال کیا جائے کہ نعوذ باللہ کسی وقت ان تمام برکتوں اور پاکیزگیوں اور روشنیوں سے خالی رہ جاتے تھے۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۹۳-۹۴ حاشیه ) ناظرین کی توجہ کے لائق یہ ہے کہ ان مولویوں نے بات بات میں حضرت عیسی کو بڑھایا اور ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی۔غضب کی بات ہے کہ ان کا عقیدہ حضرت مسیح کی نسبت تو یہ ہو کہ کبھی روح القدس اُن سے جدا نہیں ہوتا تھا اور مس شیطان سے وہ بری تھے۔اور یہ دونو باتیں انہیں کی خصوصیت تھی لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ان کا یہ اعتقاد ہو کہ نہ روح القدس ہمیشہ اور ہر وقت اُن کے پاس رہا اور نہ وہ نعوذ باللہ نقل کفر کفر نباشد مس شیطان سے بری تھے باوجود ان باتوں کے یہ لوگ مسلمان کہلا دیں۔اُن کی نظر میں ہمارے سید و مولی محمد صلی اللہ علیہ وسلم مُردہ مگر حضرت عیسی اب تک زندہ اور عیسی کے لئے رُوح القدس دائمی رفیق مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ اس نعمت سے بے بہرہ۔اور حضرت عیسی مسیں شیطان سے محفوظ مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ نہیں۔جن لوگوں کے یہ عقائد ہوں اُن کے ہاتھ سے جس قدر دین اسلام کو اس زمانہ میں نقصان پہنچ رہا ہے کون اس کا اندازہ کر سکتا ہے۔یہ لوگ چھپے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہیں۔چاہئے کہ ہر یک مسلمان اور سچا عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پر ہیز کرے۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۱۰-۱۱۱) یہی حال انبیاء کی اجتہادی غلطی کا ہے کہ روح القدس تو کبھی اُن سے علیحدہ نہیں ہوتا مگر بعض اوقات خدا تعالی بعض مصالح کے لئے انبیاء کے فہم اور ادراک کو اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے تب کوئی قول یا فعل سہو یا غلطی کی شکل پر اُن سے صادر ہوتا ہے اور وہ حکمت جو ارادہ کی گئی ہے ظاہر ہو جاتی ہے۔تب پھر وحی کا دریا زور سے چلنے لگتا ہے اور غلطی کو درمیان سے اُٹھا دیا جاتا ہے گویا اس کا کبھی وجود نہیں تھا۔حضرت مسیح ایک انجیر کی طرف دوڑے گئے کہ تا اُس کا پھل کھائیں اور روح القدس ساتھ ہی تھا مگر روح القدس نے یہ اطلاع نہ دی کہ اس وقت انجیر پر کوئی پھل نہیں۔بایں ہمہ یہ سب لوگ جانتے ہیں کہ شاذ و نادر معدوم کے حکم میں ہوتا ہے۔پس جس حالت میں ہمارے سید و مولی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے دس لاکھ کے قریب قول و فعل میں سراسر خدائی کا ہی جلوہ نظر آتا ہے اور ہر بات میں حرکات میں سکنات میں اقوال میں افعال میں روح القدس کے چمکتے ہوئے انوار نظر آتے ہیں تو پھر اگر ایک آدھ بات میں