حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 640
۶۴۰ روشنی اور اس برکت سے بکلی محروم رہ جاتے ہیں جو اس کے نزول کے وقت ان کے دل اور دماغ اور بال بال میں پیدا ہوتی ہے۔تو کیا اس عقیدہ سے لازم نہیں آتا کہ روح القدس کے جدا ہونے سے پھر اُن برگزیدوں کو ظلمت گھیر لیتی ہے اور نعوذ باللہ نظم القرین کی جدائی کی وجہ سے بئس القرین کا اثر اُن میں شروع ہو جاتا ہے۔اب ذرا خوف الہی کو اپنے دل میں جگہ دے کر سوچنا چاہئے کہ کیا یہی ادب اور یہی ایمان اور عرفان ہے اور یہی محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اس نقص اور تنزل کی حالت کو روا رکھا جائے کہ گویا روح القدس آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم سے مدتوں تک علیحدہ ہو جاتا تھا۔اور نعوذ باللہ ان مدتوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انوار قدسیہ سے جو روح القدس کا پر تو ہ ہے محروم ہوتے تھے۔غضب کی بات ہے کہ عیسائی لوگ تو حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت یقینی اور قطعی طور پر یہ اعتقاد رکھیں کہ روح القدس جب سے حضرت مسیح پر نازل ہوا کبھی اُن سے جدا نہیں ہوا اور وہ ہمیشہ اور ہر دم روح القدس سے تائید یافتہ تھے یہاں تک کہ خواب میں بھی اُن سے روح القدس جد انہیں ہوتا تھا۔اور ان کا روح القدس کبھی آسمان پر اُن کو اکیلا اور مہجور چھوڑ کر نہیں گیا اور نہ روح القدس کی روشنی ایک دم کے لئے بھی کبھی ان سے جدا ہوئی لیکن مسلمانوں کا یہ اعتقاد ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روح القدس آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا بھی ہو جاتا تھا۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۷۲ تا ۷۵ ) شاید کوئی بے خبر اس حیرت میں پڑے کہ فرشتوں کا اُترنا کیا معنی رکھتا ہے؟ سو واضح ہو کہ عادت اللہ اس طرح پر جاری ہے کہ جب کوئی رسول یا نبی یا محدث اصلاح خلق اللہ کے لئے آسمان سے اترتا ہے تو ضرور اس کے ساتھ اور اس کے ہمرکاب ایسے فرشتے اترا کرتے ہیں کہ جو مستعد دلوں میں ہدایت ڈالتے ہیں اور نیکی کی رغبت دلاتے ہیں اور برابر اترتے رہتے ہیں جب تک کفر اور ضلالت کی ظلمت دور ہو کر ایمان اور راستبازی کی صبح صادق نمودار ہو۔جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔تَنَزَّلُ الْمَلَيْكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ۔سَلَمُ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۔سو ملائکہ اور روح القدس کا تنزل یعنی آسمان سے اتر نا اُسی وقت ہوتا ہے جب ایک عظیم الشان آدمی خلعت خلافت پہن کر اور کلام الہی سے شرف پا کر زمین پر نزول فرماتا ہے۔روح القدس خاص طور پر اس خلیفہ کو ملتی ہے اور جو اس کے ساتھ ملائکہ ہیں وہ تمام دنیا کے مستعد دلوں پر نازل کئے جاتے ہیں۔القدر : ۶۰۵