حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 639
۶۳۹ داخل ہوتا ہے جو مرتبہ بقاء اور لقاء کا پا کر اس لائق ٹھہر جاتے ہیں کہ ان کی نہایت اصفی اور اجلی محبت پر خدا تعالیٰ کی کامل محبت اپنی برکات کے ساتھ نازل ہو۔اور جب وہ روح القدس نازل ہوتا ہے تو اس انسان کے وجود سے ایسا تعلق پکڑ جاتا ہے کہ جیسے جان کا تعلق جسم سے ہوتا ہے۔وہ قوت بینائی بن کر آنکھوں میں کام دیتا ہے اور قوت شنوائی کا جامہ پہن کر کانوں کو روحانی حس بخشتا ہے۔وہ زبان کی گویائی اور دل کے تقویٰ اور دماغ کی ہوشیاری بن جاتا ہے اور ہاتھوں میں بھی سرایت کرتا ہے اور پیروں میں بھی اپنا اثر پہنچاتا ہے۔غرض تمام ظلمت کو وجود میں سے اٹھا دیتا ہے اور سر کے بالوں سے لے کر پیروں کے ناخنوں تک منور کر دیتا ہے۔اور اگر ایک طرفتہ العین کے لئے بھی علیحدہ ہو جائے تو فی الفور اس کی جگہ ظلمت آ جاتی ہے۔مگر وہ کاملوں کو ایسا نعم القرین عطا کیا گیا ہے کہ ایک دم کے لئے بھی اُن سے علیحدہ نہیں ہوتا اور یہ گمان کرنا کہ اُن سے علیحدہ بھی ہو جاتا ہے یہ دوسرے لفظوں میں اس بات کا اقرار ہے کہ وہ بعد اس کے جو روشنی میں آگئے پھر تاریکی میں پڑ جاتے ہیں اور بعد اس کے جو معصوم یا محفوظ کئے گئے پھر نفس امارہ اُن کی طرف عود کرتا ہے اور بعد اس کے جو روحانی حواس ان پر کھولے گئے پھر وہ تمام حواس بے کار اور معطل کئے جاتے ہیں۔ہر یک نور اور سکیت اور اطمینان اور برکت اور استقامت اور ہر یک روحانی نعمت برگزیدوں کو روح القدس سے ہی ملتی ہے اور جیسے اشرار اور کفار کے لئے دائمی طور پر شیطان کو بئس القرین قرار دیا گیا ہے تا ہر وقت وہ اُن پر ظلمت پھیلاتا رہے اور ان کے قیام اور قعود اور حرکت اور سکون اور نیند اور بیداری میں ان کا پیچھا نہ چھوڑے ایسا ہی مقربین کے لئے دائمی طور پر روح القدس کو نعم القرین عطا کیا گیا ہے تا ہر وقت وہ اُن پر نور برساتا رہے اور ہر دم اُن کی تائید میں لگا ر ہے اور کسی دم اُن سے جدا نہ ہو۔اب ظاہر ہے کہ جبکہ بمقابل بئس القرین کے جو ہمیشہ اشد شریروں کا ملازم اور رفیق ہے مقربوں کے لئے نعم القرین کا ہر وقت رفیق اور انہیں ہونا نہایت ضروری ہے اور قرآن کریم اس کی خبر دیتا ہے تو پھر اگر اس نعم القرین کی علیحدگی مقربوں سے تجویز کی جائے جیسا کہ ہمارے اندرونی مخالف قومی بھائی گمان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ روح القدس جبرائیل کا نام ہے کبھی تو وہ آسمان سے نازل ہوتا ہے اور مقربوں سے نہایت درجہ اتصال کر لیتا ہے یہاں تک کہ اُن کے دل میں پھنس جاتا ہے اور کبھی ان کو اکیلا چھوڑ کر ان سے جدائی اختیار کر لیتا ہے اور کروڑ ہا بلکہ بے شمار کوسوں کی دوری اختیار کر کے آسمان پر چڑھ جاتا ہے اور ان مقربوں سے بالکل قطع تعلقات کر کے اپنی قرار گاہ میں جا چھپتا ہے تب وہ اس