حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 638
۶۳۸ خاصیت پیدا کر لیتی ہے اور الہامی حواس اس کو مل جاتے ہیں۔پھر دوسرا کام جبریل کا یہ ہے کہ جب بندہ کی محبت خدائے تعالیٰ کی محبت کے زیر سایہ آپڑتی ہے تو خدائے تعالیٰ کی مربیانہ حرکت کی وجہ سے جبریلی نور میں بھی ایک حرکت پیدا ہو کر محب صادق کے دل پر وہ نور جا پڑتا ہے یعنی اس نور کا عکس محب صادق کے دل پر پڑ کر ایک عکسی تصویر جبریل کی اُس میں پیدا ہو جاتی ہے جو ایک روشنی یا ہوا یا گرمی کا کام دیتی ہے اور بطور ملکہ الہامیہ کے ملہم کے اندر رہتی ہے۔ایک سرا اس کا جبریل کے نور میں غرق ہوتا ہے اور دوسرا مہم کے دل کے اندر داخل ہو جاتا جس کو دوسرے لفظوں میں رُوح القدس یا اس کی تصویر کہہ سکتے ہیں۔تیسرا کام جبریل کا یہ ہے کہ جب خدائے تعالیٰ کی طرف سے کسی کلام کا ظہور ہو تو ہوا کی طرح موج میں آ کر اس کلام کو دل کے کانوں تک پہنچا دیتا ہے یا روشنی کے پیرایہ میں افروختہ ہو کر اس کو نظر کے سامنے کر دیتا ہے یا حرارت محرکہ کے پیرایہ میں تیزی پیدا کر کے زبان کو الہامی الفاظ کی طرف چلاتا ہے۔توضیح مرام - روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۹۱ تا ۹۴) جب محبت الہی بندہ کی محبت پر نازل ہوتی ہے تب دونوں محبتوں کے ملنے سے روح القدس کا ایک روشن اور کامل سایہ انسان کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے اور لقا کے مرتبہ پر اس روح القدس کی روشنی نہایت ہی نمایاں ہوتی ہے اور اقتداری خوارق جن کا ابھی ہم ذکر کر آئے ہیں اسی وجہ سے ایسے لوگوں سے صادر ہوتے ہیں کہ یہ روح القدس کی روشنی ہر وقت اور ہر حال میں اُن کے شامل حال ہوتی ہے اور ان کے اندر سکونت رکھتی ہے اور وہ اس روشنی سے کبھی اور کسی حال میں جدا نہیں ہوتے اور نہ وہ روشنی اُن سے جدا ہوتی ہے۔وہ روشنی ہر دم اُن کے تنفس کے ساتھ نکلتی ہے۔اور اُن کی نظر کے ساتھ ہر یک چیز پر پڑتی ہے اور ان کی کلام کے ساتھ اپنی نورانیت لوگوں کو دکھلاتی ہے۔اسی روشنی کا نام روح القدس ہے مگر یہ حقیقی روح القدس نہیں۔حقیقی روح القدس وہ ہے جو آسمان پر ہے۔یہ روح القدس اس کا ظل ہے جو پاک سینوں اور دلوں اور دماغوں میں ہمیشہ کے لئے آباد ہو جاتا ہے اور ایک طرفۃ العین کے لئے بھی اُن سے جدا نہیں ہوتا اور جو شخص تجویز کرتا ہے کہ یہ روح القدس کسی وقت اپنی تمام تاثیرات کے ساتھ اُن سے جدا ہو جاتا ہے وہ شخص سراسر باطل پر ہے اور اپنے پر ظلمت خیال سے خدا تعالیٰ کے مقدس برگزیدوں کی توہین کرتا ہے۔ہاں یہ سچ ہے کہ حقیقی روح القدس تو اپنے مقام پر ہی رہتا ہے لیکن روح القدس کا سایہ جس کا نام مجاز اروح القدس ہی رکھا جاتا ہے ان سینوں اور دلوں اور دماغوں اور تمام اعضاء میں