حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 637
۶۳۷ طرح ہوتا ہے اور زبان اس ریل کی گاڑی کی طرح ہوتی ہے جو چلنے والے انجن سے الگ پڑی ہولیکن یہ یادر ہے کہ یہ قوت جو روح القدس سے موسوم ہے ہر یک دل میں یکساں اور برابر پیدا نہیں ہوتی بلکہ جیسے انسان کی محبت کامل یا ناقص طور پر ہوتی ہے اسی اندازہ کے موافق یہ جبریلی نور اس پر اثر ڈالتا ہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ روح القدس کی قوت جو دونوں محبتوں کے ملنے سے انسان کے دل میں جبریلی نور کے پر توہ سے پیدا ہو جاتی ہے اس کے وجود کے لئے یہ امر لازم نہیں کہ ہر وقت انسان خدائے تعالیٰ کا پاک کلام سنتا ہی رہے یا کشفی طور پر کچھ دیکھتا ہی رہے بلکہ یہ تو انوار سماویہ کے پانے کے لئے اسباب قریبہ کی طرح ہے یا یوں کہو کہ یہ ایک روحانی روشنی روحانی آنکھوں کے دیکھنے کے لئے یا ایک روحانی ہوا روحانی کانوں تک آواز پہنچانے کے لئے منجانب اللہ ہے۔اور ظاہر ہے کہ جب تک کوئی چیز سامنے موجود نہ ہو مجرد روشنی کچھ دکھا نہیں سکتی۔اور جب تک متکلم کے منہ سے کلام نہ نکلے مجرد ہوا کانوں تک کوئی خبر نہیں پہنچا سکتی سو یہ روشنی یا ہوا روحانی حواس کے لئے محض ایک آسمانی مؤید عطا کیا جاتا ہے جیسے ظاہری آنکھوں کے لئے آفتاب کی روشنی اور ظاہری کانوں کے لئے ہوا کا ذریعہ مقرر کیا گیا ہے اور جب باری تعالیٰ کا ارادہ اس طرف متوجہ ہوتا ہے کہ اپنا کلام اپنے کسی مہم کے دل تک پہنچاوے تو اس کی اس متکلمانہ حرکت سے معا جبریلی نور میں القاء کے لئے ایک روشنی کی موج یا ہوا کی موج یا ملہم کی تحریک لسان کے لئے ایک حرارت کی موج پیدا ہو جاتی ہے یا اس تموج یا اس حرارت سے بلا تو قف وہ کلام مہم کی آنکھوں کے سامنے لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے یا کانوں تک اس کی آواز پہنچتی ہے یا زبان پر وہ الہامی الفاظ جاری ہوتے ہیں اور روحانی حواس اور روحانی روشنی جو قبل از الہام ایک قوت کی طرح ملتی ہے یہ دونوں قو تیں اس لئے عطا کی جاتی ہیں کہ تا قبل از نزول الہام الہام کے قبول کرنے کی استعداد پیدا ہو جائے۔کیونکہ اگر الہام ایسی حالت میں نازل کیا جا تا کہ ملہم کا دل حواس روحانی سے محروم ہوتا یا روح القدس کی روشنی دل کی آنکھ کو پہنچی نہ ہوتی تو وہ الہام الہی کو کن آنکھوں کی پاک روشنی سے دیکھ سکتا۔سو اسی ضرورت کی وجہ سے یہ دونوں پہلے ہی سے ملہمین کو عطا کی گئیں۔اور اس تحقیق سے یہ بھی ناظرین سمجھ لیں گے کہ وحی کے متعلق جبریل کے تین کام ہیں:۔اول یہ کہ جب رحم میں ایسے شخص کے وجود کے لئے نطفہ پڑتا ہے جس کی فطرت کو اللہ جلشانہ اپنی رحمانیت کے نقاضا سے جس میں انسان کے عمل کو کچھ دخل نہیں ملہمانہ فطرت بنانا چاہتا ہے تو اس پر اُسی نطفہ ہونے کی حالت میں جبریلی نور کا سایہ ڈال دیتا ہے۔تب ایسے شخص کی فطرت منجانب اللہ الہامی