حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 634
۶۳۴ حقائق و کمالات حکمت و بلاغت قرآن شریف میں اکمل اور اتم طور پر پائے جاتے ہیں۔یہ عظیم الشان مرتبہ اور کسی کتاب کو حاصل نہیں اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے (جیسا کہ پہلے بھی ہم اس کی طرف اشارہ کر چکے ہیں ) کہ ہر ایک فرشتہ کی تاثیر انسان کے نفس پر دو قسم کی ہوتی ہے۔اوّل وہ تاثیر جو رحم میں ہونے کی حالت میں باذنہ تعالیٰ مختلف طور کے تخم پر مختلف طور کا اثر ڈالتی ہے۔پھر دوسری وہ تاثیر جو بعد طیاری وجود کے اس وجود کی مخفی استعدادوں کو اپنے کمالات ممکنہ تک پہنچانے کے لئے کام کرتی ہے۔اس دوسری تا شیر کو جب وہ نبی یا کامل ولی کے متعلق ہو وحی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور یوں ہوتا ہے کہ جب ایک مستعد نفس اپنے نور ایمان اور نور محبت کے کمال سے مبدء فیوض کے ساتھ دوستانہ تعلق پکڑ لیتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی زندگی بخش محبت اس کی محبت پر پر تو ہ انداز ہو جاتی ہے تو اس حد اور اس وقت تک جو کچھ انسان کو آگے قدم رکھنے کے لئے مقدور حاصل ہوتا ہے یہ دراصل اس پنہانی تاثیر کا اثر ظاہر ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کے فرشتہ نے انسان کے رحم میں ہونے کی حالت میں کی ہوتی ہے۔پھر بعد اس کے جب انسان اس پہلی تاثیر کی کشش سے یہ مرتبہ حاصل کر لیتا ہے تو پھر وہی فرشتہ از سر نو اپنا اثر نور سے بھرا ہوا اس پر ڈالتا ہے۔مگر یہ نہیں کہ اپنی طرف سے بلکہ وہ درمیانی خادم ہونے کی وجہ سے اُس نالی کی طرح جو ایک طرف سے پانی کو کھینچتی اور دوسری طرف اس پانی کو پہنچا دیتی ہے خدائے تعالیٰ کا نور فیض اپنے اندر کھینچ لیتا ہے۔پھر عین اس وقت میں جب انسان بوجہ اقتران محبتین رُوح القدس کی نالی کے قریب اپنے تئیں رکھ دیتا ہے معا اُس نالی میں سے فیض وحی اس کے اندر گر جاتا ہے یا یوں کہو کہ اُس وقت جبریل اپنا نورانی سایہ اس مستعد دل پر ڈال کر ایک عکسی تصویر اپنی اس کے اندر لکھ دیتا ہے تب جیسے ایک فرشتہ کا جو آسمان پر متعقر ہے جبریل نام ہے اس عکسی تصویر کا نام بھی جبریل ہی ہوتا ہے یا مثلاً اس فرشتہ کا نام روح القدس ہے تو عکسی تصویر کا نام بھی رُوح القدس ہی رکھا جاتا ہے۔سو یہ نہیں کہ فرشتہ انسان کے اندر گھس آتا ہے بلکہ اس کا عکس انسان کے آئینہ قلب میں نمودار ہو جاتا ہے۔مثلاً جب تم نہایت مصفی آئینہ اپنے منہ کے سامنے رکھ دو گے تو موافق دائرہ مقدار اس آئینہ کے تمہاری شکل کا عکس بلا تو قف اس میں پڑے گا یہ نہیں کہ تمہارا منہ اور تمہارا سر گردن سے ٹوٹ کر اور الگ ہو کر آئینہ میں رکھ دیا جائے گا بلکہ اُس جگہ رہے گا جو رہنا چاہئے اور صرف اس کا عکس پڑے گا اور عکس بھی ہر یک جگہ ایک ہی مقدار پر نہیں پڑے گا بلکہ جیسی جیسی وسعت آئینہ قلب کی ہوگی اُسی مقدار کے موافق اثر پڑے گا مثلاً اگر تم اپنا چہرہ آری کے شیشہ میں دیکھنا چاہو کہ جو ایک چھوٹا سا شیشہ ایک قسم کی انگشتری میں لگا ہوتا ہے تو