حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 633 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 633

۶۳۳ سعادت سے محروم رہ گیا۔جاننا چاہئے کہ یہ سجدہ کا حکم اس وقت سے متعلق نہیں ہے کہ جب حضرت آدم پیدا کئے گئے۔بلکہ یہ علیحدہ ملائک کو حکم کیا گیا کہ جب کوئی انسان اپنی حقیقی انسانیت کے مرتبہ تک پہنچے اور اعتدال انسانی اس کو حاصل ہو جائے اور خدائے تعالی کی رُوح اُس میں سکونت اختیار کرے تو تم اس کامل کے آگے سجدہ میں گرا کر و۔یعنی آسمانی انوار کے ساتھ اُس پر اُتر و اور اُس پر صلوٰۃ بھیجو۔سو یہ اس قدیم قانون کی طرف اشارہ ہے جو خدائے تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کے ساتھ ہمیشہ جاری رکھتا ہے۔جب کوئی شخص کسی زمانہ میں اعتدال روحانی حاصل کرتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی رُوح اس کے اندر آباد ہوتی ہے یعنی اپنے نفس سے فانی ہو کر بقا باللہ کا درجہ حاصل کر لیتا ہے تو ایک خاص طور پر نزول ملائکہ کا اس پر شروع ہو جاتا ہے۔اگر چہ سلوک کے ابتدائی حالات میں بھی ملائک اس کی نصرت اور خدمت میں لگے ہوئے ہوتے ہیں لیکن یہ نزول ایسا اتم اور اکمل ہوتا ہے کہ سجدہ کا حکم رکھتا ہے۔اور سجدہ کے لفظ سے خدائے تعالیٰ نے یہ ظاہر کر دیا کہ ملائکہ انسان کامل سے افضل نہیں ہیں بلکہ وہ شاہی خادموں کی طرح سجدات تعظیم انسان کامل کے آگے بجالا رہے ہیں۔۔توضیح مرام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ہے تا۷۷) ملائک اللہ (جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں) ایک ہی درجہ کی عظمت اور بزرگی نہیں رکھتے۔نہ ایک ہی قسم کا کام انہیں سپرد ہے بلکہ ہر یک فرشتہ علیحدہ علیحدہ کا موں کے انجام دینے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔دنیا میں جس قدر تم تغیرات و انقلابات دیکھتے ہو یا جو کچھ مکمن قوة سے خیز فعل میں آتا ہے یا جس قدر ارواح و اجسام اپنے کمالات مطلوبہ تک پہنچتے ہیں ان سب پر تاثیرات سماویہ کام کر رہی ہیں اور کبھی ایک ہی فرشتہ مختلف طور کی استعدادوں پر مختلف طور کے اثر ڈالتا ہے۔مثلاً جبریل جو ایک عظیم الشان فرشتہ ہے اور آسمان کے ایک نہایت روشن نیر سے تعلق رکھتا ہے اس کو کئی قسم کی خدمات سپرد ہیں۔اُنہی خدمات کے موافق جو اس کے نیر سے لئے جاتے ہیں۔سو وہ فرشتہ اگر چہ ہر ایک ایسے شخص پر نازل ہوتا ہے جو وحی الہی سے مشرف کیا گیا ہو ( نزول کی اصل کیفیت جوصرف اثر اندازی کے طور پر ہے نہ واقعی طور پر یاد رکھنی چاہئے ) لیکن اس کے نزول کی تاثیرات کا دائرہ مختلف استعدادوں اور مختلف ظروف کے لحاظ سے چھوٹی چھوٹی یا بڑی بڑی شکلوں پر تقسیم ہو جاتا ہے۔نہایت بڑا دائرہ اس کی روحانی تاثیرات کا وہ دائرہ ہے جو حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی سے متعلق ہے۔اسی وجہ سے جو معارف و