حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 632
۶۳۲ دے رکھی ہے جو ہر دم اور ہر طرفتہ العین میں اس قادر مطلق سے اذن پا کر انواع اقسام کے تصرفات میں مشغول ہیں اور نہ عبث طور پر بلکہ سراسر حکیمانہ طرز سے بڑے بڑے مقاصد کے لئے اس کرہ ارض و سما کو طرح طرح کی جنبشیں دے رہے ہیں اور کوئی فعل بھی اُن کا بے کار اور بے معنی نہیں۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۲۴ تا ۱۳۳ حاشیه ) یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اسلامی شریعت کی رو سے خواص ملائک کا درجہ خواص بشر سے کچھ زیادہ نہیں بلکہ خواص الناس خواص الملائک سے افضل ہیں اور نظام جسمانی یا نظام روحانی میں اُن کا وسائط قرار پانا ان کی افضلیت پر دلالت نہیں کرتا بلکہ قرآن شریف کی ہدایت کے رو سے وہ خدام کی طرح اس کام میں لگائے گئے ہیں۔جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ے یعنی وہ خدا جس نے سورج اور چاند کو تمہاری خدمت میں لگا رکھا ہے۔مثلاً دیکھنا چاہئے کہ ایک چٹھی رساں ایک شاہ وقت کی طرف سے اس کے کسی ملک کے صوبہ یا گورنر کی خدمت میں چٹھیاں پہنچا دیتا ہے تو کیا اس سے یہ ثابت ہو سکتا ہے کہ وہ چٹھی رسان جو اس بادشاہ اور گورنر جنرل میں واسطہ ہے گورنر جنرل سے افضل ہے۔سو خوب سمجھ لو۔یہی مثال ان وسائط کی ہے جو نظام جسمانی اور روحانی میں قادر مطلق کے ارادوں کو زمین پر پہنچاتے اور ان کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔اللہ جل شـــانـه قرآن شریف کے کئی مقامات میں بنصریح ظاہر فرماتا ہے کہ جو کچھ زمین و آسمان میں پیدا کیا گیا ہے وہ تمام چیزیں اپنے وجود میں انسان کی طفیلی ہیں یعنی محض انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور انسان اپنے مرتبہ میں سب سے اعلیٰ وارفع اور سب کا مخدوم ہے جس کی خدمت میں یہ چیزیں لگا دی گئی ہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَابِبَيْنِ - پھر ایک اور جگہ فرمایا اِذْقَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّي خَالِقُ بَشَرًا مِنْ طِينٍ فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ فَسَجَدَ الْمَلَيْكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ إِلَّا ابْلِیس - س یعنی یاد کر وہ وقت کہ جب تیرے خدا نے (جس کا تو مظہر اتم ہے ) فرشتوں کو کہا کہ میں مٹی سے ایک انسان پیدا کرنے والا ہوں۔سو جب میں اس کو کمال اعتدال پر پیدا کرلوں اور اپنی روح میں سے اس میں پھونک دوں تو تم اس کے لئے سجدہ میں گر و یعنی کمال انکسار سے اس کی خدمت میں مشغول ہو جاؤ۔اور ایسی خدمت گزاری میں جھک جاؤ کہ گویا تم اسے سجدہ کر رہے ہو۔پس سارے کے سارے فرشتے انسان مکمل کے آگے سجدہ میں گر پڑے مگر شیطان جو اس ا ابراهیم : ۳۴ ۳ ص ۷۲ تا ۷۵