حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 631
۶۳۱ کہ جنات تو آگ سے مخلوق ہیں وہ آگ سے کیا ضرر اٹھائیں گے کیونکہ درحقیقت جس قدر رمی شہب سے جنات کو ضرر پہنچتا ہے اس کا یہ ظاہری موجب آگ نہیں بلکہ وہ روشنی موجب ہے جو فرشتہ کے نور سے شہب کے ساتھ شامل ہوتی ہے جو بالخاصیت محرق شیاطین ہے۔جب تک کوئی انسان پابند اعتقاد وجود ہستی باری ہے اور دہر یہ نہیں اُس کو ضرور یہ بات ماننی پڑے گی کہ یہ تمام کاروبار عبث نہیں بلکہ ہر یک حدوث اور ظہور پر خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت بالا رادہ کا ہاتھ ہے اور وہ ارادہ تمام انتظام کے موافق بتوسط اسباب ظہور پذیر ہوتا ہے چونکہ خدا تعالیٰ نے اجرام اور اجسام کو علم اور شعور نہیں دیا اس لئے ان باتوں کے پورا کرنے کے لئے جن میں علم اور شعور درکار ہے ایسے اسباب یعنی ایسی چیزوں کے توسط کی حاجت ہوئی جن کو علم اور شعور دیا گیا ہے اور وہ ملائک ہیں۔اب ظاہر ہے کہ جب ملائک کی یہی شان ہے کہ وہ عبث اور بے ہودہ طور پر کوئی کام نہیں کرتے بلکہ اپنی تمام خدمات میں اغراض اور مقاصد رکھتے ہیں اس لئے اُن کی نسبت یہ بات ضروری طور پر ماننی پڑے گی کہ رجم کی خدمت میں بھی ان کا کوئی اصل مقصد ہے اور چونکہ عقل اس بات کے درک سے قاصر ہے کہ وہ کون سا مقصد ہے اس لئے اس عقدہ کے حل کے لئے عقل سے سوال کرنا بے محل سوال ہے۔پس وہ بوجہ اس کے کہ ادراک تفصیلی سے عاجز ہے اس تفصیل کے لئے کسی اور ذریعہ کی محتاج ہو گی جو حدود عقل سے بڑھ کر ہے اور وہ ذریعہ وحی اور الہام ہے جو اسی غرض سے انسان کو دیا گیا ہے کہ تا انسان کو ان معارف اور حقائق تک پہنچا دے کہ جن تک مجرد عقل پہنچا نہیں سکتی اور وہ اسرار دقیقہ اس پر کھولے جو عقل کے ذریعہ سے کھل نہیں سکتے اور وحی سے مراد ہماری وحی قرآن ہے جس نے ہم پر یہ عقدہ کھول دیا کہ اسقاط شہب سے ملائکہ کی غرض رجم شیاطین ہے۔یعنی یہ ایک قسم کا انتشار نورانیت ملائک کے ہاتھ سے اور ان کے نور کی آمیزش سے ہے جس کا جنات کی ظلمت پر اثر پڑتا ہے۔اور جنات کے افعال مخصوصہ اس سے رو کبھی ہو جاتے ہیں اور اگر اس انتشار نورانیت کی کثرت ہو تو بوجہ نور کے مقناطیسی جذب کے مظاہر کاملہ نورانیت کے انسانوں میں سے پیدا ہوتے ہیں۔ورنہ یہ انتشار نورانیت بوجہ اپنی ملکی خاصیت کے کسی قدر دلوں کو نور اور حقانیت کی طرف کھینچتا ہے اور یہ ایک خاصیت ہے جو ہمیشہ دنیا میں انسی طور پر اس کا ثبوت ملتا رہا ہے۔درحقیقت خدا تعالیٰ کا انتظام یہی ہے کہ جو کچھ اجرام اور اجسام اور کائنات الجو میں ہو رہا ہے یا کبھی کبھی ظہور میں آتا ہے وہ صرف اجرام اور اجسام کے افعال شتر بے مہار کی طرح نہیں ہیں بلکہ ان کے تمام واقعات کی زمام اختیار حکیم قدیر نے ملائک کے ہاتھ میں