حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 610
۶۱۰ جب نماز کے لئے حکم ہوا۔تو آنحضرت نے خدا تعالیٰ کے اس قول کو اپنے فعل سے کھول کر دکھلا دیا اور عملی رنگ میں ظاہر کر دیا کہ فجر کی نماز کی یہ رکعات ہیں اور مغرب کی یہ۔اور باقی نمازوں کے لئے یہ یہ رکعات ہیں۔ایسا ہی حج کر کے دکھلایا اور پھر اپنے ہاتھ سے ہزار ہا صحابہ کو اس فعل کا پابند کر کے سلسلہ تعامل بڑے زور سے قائم کر دیا۔پس عملی نمونہ جواب تک امت میں تعامل کے رنگ میں مشہود ومحسوس ہے۔اسی کا نام سنت ہے۔لیکن حدیث کو آنحضرت صلعم نے اپنے روبرو نہیں لکھوایا اور نہ اس کے جمع کرنے کے لئے کوئی اہتمام کیا۔کچھ حدیثیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جمع کی تھیں۔لیکن پھر تقویٰ کے خیال سے انہوں نے وہ سب حدیثیں جلا دیں۔کہ یہ میرا سماع بلا واسطہ نہیں ہے خدا جانے اصل حقیقت کیا ہے پھر جب وہ دور صحابہ رضی اللہ عنہم کا گذر گیا تو بعض تبع تابعین کی طبیعت کو خدا نے اس طرف پھیر دیا کہ حدیثوں کو بھی جمع کر لینا چاہئے۔تب حدیثیں جمع ہوئیں۔اس میں شک نہیں ہوسکتا کہ اکثر حدیثوں کے جمع کرنے والے بڑے متقی اور پرہیز گار تھے۔انہوں نے جہاں تک ان کی طاقت میں تھا حدیثوں کی تنقید کی اور ایسی حدیثوں سے بچنا چاہا جو اُن کی رائے میں موضوعات میں سے تھیں۔اور ہر ایک مشتبہ الحال راوی کی حدیث نہیں لی بہت محنت کی۔مگر تا ہم چونکہ وہ ساری کارروائی بعد از وقت تھی اس لئے وہ سب ظن کے مرتبہ پر رہی۔باایں ہمہ یہ سخت نا انصافی ہو گی کہ یہ کہا جائے کہ وہ سب حدیثیں لغو اور علمی اور بے فائدہ اور جھوٹی ہیں۔بلکہ ان حدیثوں کے لکھنے میں اس قدر احتیاط سے کام لیا گیا ہے اور اس قدر تحقیق اور تنقید کی گئی ہے جو اس کی نظیر دوسرے مذاہب میں نہیں پائی جاتی۔یہودیوں میں بھی حدیثیں ہیں اور حضرت مسیح کے مقابل پر بھی وہی فرقہ یہودیوں کا تھا جو عامل بالحدیث کہلا تا تھا۔لیکن ثابت نہیں کیا گیا کہ یہودیوں کے محدثین نے ایسی احتیاط سے وہ حدیثیں جمع کی تھیں جیسا کہ اسلام کے محدثین نے۔تاہم یہ غلطی ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ جب تک حدیثیں جمع نہیں ہوئی تھیں اس وقت تک لوگ نمازوں کی رکعات سے بے خبر تھے یا حج کرنے کے طریق سے نا آشنا تھے کیونکہ سلسلہ تعامل نے جو سنت کے ذریعہ سے اُن میں پیدا ہو گیا تھا تمام حدود اور فرائض اسلام ان کو سکھلا دیئے تھے۔اس لئے یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ان حدیثوں کا دنیا میں اگر وجود بھی نہ ہوتا جو مدت دراز کے بعد جمع کی گئیں تو اسلام کی اصلی تعلیم کا کچھ بھی حرج نہ تھا۔کیونکہ قرآن اور سلسلہ تعامل نے ان ضرورتوں کو پورا کر دیا تھا۔تاہم حدیثوں نے اُس نور کو زیادہ کیا۔گویا اسلام نور علی نور ہو گیا۔اور حدیثیں قرآن اور سنت کے لئے گواہ کی طرح کھڑی ہو گئیں۔اور اسلام کے بہت سے فرقے جو بعد